Read in English  
       
Recruitment Verdict

حیدرآباد: وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے گروپ 1 تقرریوں سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے حکومت کی قانونی جدوجہد میں فیصلہ کن کامیابی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ شفاف بھرتی کے حق میں حکومت کے مؤقف کی مکمل توثیق کرتا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سرکاری ملازمتوں کو روکنے کے لیے مختلف سازشیں اور قانونی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ تاہم، حکومت نے مسلسل قانونی کوششوں کے ذریعے ان چیلنجز کا مؤثر جواب دیا۔

انہوں نے کہا کہ عدالت کا یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ حکومت نے بھرتی کے عمل میں مکمل دیانت داری اور شفافیت کو یقینی بنایا۔

حکومت کی قانونی کامیابی | Recruitment Verdict

وزیر اعلیٰ نے عدالتی فیصلے کے بعد گروپ 1 امتحان میں کامیاب ہونے والے 563 امیدواروں کو مبارکباد دی۔ ان کے مطابق، ریاست کی تشکیل کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ گروپ 1 افسران کی تقرری کا عمل مکمل ہوا ہے۔

انہوں نے اس پیش رفت کو ریاستی انتظامیہ کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔ مزید یہ کہ اس فیصلے سے گروپ 1 بھرتی کے عمل پر چھائی طویل غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

نئی ذمہ داریاں اور مستقبل | Recruitment Verdict

وزیر اعلیٰ نے نومنتخب افسران پر زور دیا کہ وہ ریاست کی تعمیر نو میں پوری دیانت اور لگن کے ساتھ خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی انتظامیہ میں ایمانداری اور عزم کے ساتھ کام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت، بار بار قانونی رکاوٹوں کے باوجود، زیر التوا بھرتیوں کو مکمل کرنے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔ گروپ 1 تقرریاں عدالتی مقدمات اور اعتراضات کے باعث طویل عرصے سے تعطل کا شکار تھیں۔

اب جبکہ عدالتی فیصلہ آ چکا ہے، حکومت نے منتخب امیدواروں کو تقرری کے احکامات جاری کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔

یوں، ہائی کورٹ کے فیصلے نے نہ صرف حکومت کی قانونی حکمت عملی کو تقویت دی بلکہ سینکڑوں امیدواروں کے مستقبل کو بھی یقینی بنا دیا۔ اس پیش رفت کو ریاست میں شفاف بھرتی نظام کی جانب ایک اہم سنگ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔