Read in English  
       
Fake SIM

حیدرآباد: شہر کے پولیس کمشنر وی سی سجنار نے شہریوں کو جعلی سم کارڈز کے غلط استعمال سے خبردار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے نام پر نادانستہ طور پر موبائل نمبر جاری ہو جائے تو اس سے شناخت کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے شہریوں کو فوری طور پر اپنے نام پر رجسٹرڈ موبائل کنکشنز کی جانچ کرنی چاہیے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں انہوں نے عوام سے چوکس رہنے اور بروقت اقدام کرنے کی اپیل کی۔ ان کے مطابق، شناخت کے تحفظ کے لیے ذرا سی لاپرواہی بھی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ چنانچہ، احتیاط ہی سب سے مؤثر حل ہے۔

پولیس کمشنر نے شہریوں کو سنچار ساتھی ایپ استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔ اس ایپ کے ذریعے لوگ اپنے دستاویزات سے منسلک نامعلوم موبائل نمبرز کی جانچ کر سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ مشکوک سم کارڈز کو فوری طور پر بلاک بھی کیا جا سکتا ہے۔

جعلی نمبرز کے خلاف مؤثر قدم | Fake SIM

وی سی سجنار کے مطابق، جعلساز اکثر جعلی شناختی دستاویزات کے ذریعے سم کارڈ حاصل کرتے ہیں۔ بعد ازاں یہی نمبرز مالی دھوکہ دہی اور سائبر جرائم میں استعمال ہوتے ہیں۔ اسی تناظر میں، انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔

سنچار ساتھی ایپ صارفین کو یہ سہولت دیتی ہے کہ وہ مشکوک سم کو فوراً لاک کر دیں۔ اس کے نتیجے میں، ٹیلی کام خدمات کے مزید غلط استعمال کو روکا جا سکتا ہے۔ یہ ایپ حکومت ہند کے محکمہ ٹیلی کمیونی کیشنز کی جانب سے تیار کی گئی ہے تاکہ شہری اپنی شناخت محفوظ رکھ سکیں۔

عوامی تعاون سے سائبر جرائم پر قابو | Fake SIM

پولیس کمشنر نے زور دیا کہ سائبر جرائم کے خاتمے میں عوامی تعاون نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر شہری باقاعدگی سے اپنے موبائل کنکشنز کی جانچ کریں تو جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا سراغ لگانا آسان ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً، سائبر جرائم میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق، جعلی سم کارڈز کی بروقت اطلاع سے تفتیشی عمل تیز ہوتا ہے۔ اسی طرح، مالی فراڈ اور آن لائن جرائم کو ابتدائی مرحلے میں ہی روکا جا سکتا ہے۔ آخر میں، حکام نے ایک بار پھر شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی ڈیجیٹل شناخت کے تحفظ کو سنجیدگی سے لیں۔