Read in English  
       
Fake ITC Scam

حیدرآباد: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے جمعہ کو تلنگانہ سمیت پانچ ریاستوں میں چھاپے مارے۔ یہ کارروائیاں Fake ITC Scam کی تحقیقات کے سلسلے میں کی گئیں۔ حکام نے تلنگانہ، اروناچل پردیش، دہلی، ہریانہ اور تمل ناڈو میں کل 10 مقامات پر تلاشی لی۔

تلنگانہ میں انکشافات

حیدرآباد اور میڈچل میں ای ڈی افسران نے وینارتھ آٹوموبائلز پرائیویٹ لمیٹڈ میں 110 کروڑ روپئے کے جعلی لین دین کا پردہ فاش کیا۔ کمپنی کے ریکارڈ سے جعلی انوائسز، فرضی گاڑیوں کے رجسٹریشن اور جعلی ای-وے بل برآمد ہوئے۔ مزید برآں، کمپنی کے پروموٹرز، سپلائرز اور سہولت کاروں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے غیر قانونی طریقے سے ان پٹ ٹیکس کریڈٹ حاصل کیا۔

دیگر ریاستوں میں دھوکہ دہی

Fake ITC Scam تحقیقات کا آغاز گوہاٹی کی امیت ٹریڈرز کے خلاف شکایت سے ہوا تھا۔ بعد میں سری رام انٹرپرائزز کا نام سامنے آیا جس نے 700 کروڑ روپئے کے جعلی انوائسز تیار کیے اور 116 کروڑ روپئے کا غلط ان پٹ ٹیکس کریڈٹ حاصل کیا۔

اروناچل پردیش میں رینبو انٹرپرائزز اور اے کے انٹرپرائزز کے مالکان نے 2 کروڑ روپئے سے زائد کے جعلی کریڈٹ کا اعتراف کیا۔ ٹنور انجینئرنگ پر بھی 4 کروڑ روپئے کا فراڈ ثابت ہوا۔ ہریانہ میں جئے شری بالاجی ٹریڈنگ کمپنی نے 87 کروڑ اور 62 کروڑ روپئے کے فرضی ٹرن اوور دکھائے۔ دہلی میں ایم/ایس پریشا ایگزم نے 200 کروڑ روپئے کا ٹرن اوور بڑھا چڑھا کر دکھانے کا اعتراف کیا۔

ای ڈی کی کارروائی جاری

ای ڈی افسران نے مشتبہ افراد سے جڑے بینک کھاتے منجمد کر دیے ہیں۔ حکام نے کہا کہ مزید ریکارڈ اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور تحقیقات کو وسعت دی جا رہی ہے۔