Read in English  
       
Housing Scam

حیدرآباد: سلطان بازار پولیس نے پیر کے روز جعلی 2 بی ایچ کے مکانات الاٹ کرنے کے نام پر بڑے فراڈ کا پردہ فاش کرتے ہوئے دو افراد کو گرفتار کر لیا۔

ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے 19 افراد سے مجموعی طور پر 39 لاکھ روپئے وصول کیے۔

گرفتار شدگان کی شناخت اُسیکلہ وجے، عمر 35 سال، اور امبم مرلی، عمر 54 سال کے طور پر ہوئی ہے۔

پولیس نے دونوں کو عدالت میں پیش کر کے عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے خود کو بااثر سیاسی روابط رکھنے والے ایجنٹس ظاہر کیا۔

انہوں نے تلنگانہ حکومت کی 2 بی ایچ کے ہاؤسنگ اسکیم کے تحت مکانات دلانے کا جھانسہ دیا۔

سرکاری عہدوں کا جھوٹا دعویٰ | Housing Scam

شکایت کنندہ سماجی کارکن ایس سرسوتی، ساکن کوٹی، کے مطابق وجے نے ایک برادری اجلاس کے دوران خود کو اعلیٰ حکام کا قریبی ظاہر کیا۔

اس نے مرلی کو تلنگانہ اسٹیٹ ہاؤسنگ کارپوریشن کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر بتا کر متعارف کروایا۔

دونوں نے حیدرآباد اور اطراف کے علاقوں میں مکانات الاٹ کرنے کا وعدہ کیا۔

رقوم نقد اور آن لائن ٹرانسفر کے ذریعے وصول کی گئیں۔

فراڈ کو حقیقی ظاہر کرنے کے لیے جعلی الاٹمنٹ لیٹر جاری کیے گئے۔

ان دستاویزات پر سرکاری افسران کے جعلی دستخط اور فرضی مہریں لگائی گئی تھیں۔

19 متاثرین، 39 لاکھ کا نقصان | Housing Scam

پولیس کے مطابق اس طریقہ واردات سے کم از کم 19 افراد کو دھوکہ دیا گیا۔

متاثرین کو مجموعی طور پر 39 لاکھ روپئے کا مالی نقصان ہوا۔

اس معاملے میں کرائم نمبر 211/2025 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ملزمان کے خلاف دھوکہ دہی، امانت میں خیانت اور جعلی دستاویزات سے متعلق دفعات لگائی گئی ہیں۔

گرفتاری کی کارروائی ایسٹ زون کے ڈی سی پی ڈاکٹر بی بالاسوامی کی نگرانی میں انجام دی گئی۔

اس موقع پر ایڈیشنل ڈی سی پی جے نرسیاہ، اے سی پی ایم متیاہ اور ایس ایچ او کے نرسمہا بھی موجود تھے۔

پولیس کو شبہ ہے کہ ملزمان نے دیگر علاقوں میں بھی اسی نوعیت کے فراڈ کیے ہیں۔

مزید تفتیش کے لیے انہیں پولیس تحویل میں لینے کی درخواست دی جائے گی۔

اختتاماً پولیس نے عوام سے اپیل کی کہ کسی بھی سرکاری اسکیم کے نام پر رقم ادا کرنے سے قبل متعلقہ دفاتر سے تصدیق ضرور کریں۔