Read in English  
       
Veteran Journalist

حیدرآباد: معروف اور سینئر صحافی داسو کرشنا مورتی اتوار کی صبح امریکا کی ریاست نیو جرسی میں مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 99 برس تھی اور وہ اپنی 100 ویں سالگرہ سے صرف چھ ماہ دور تھے۔ ان کے انتقال سے بھارتی صحافت ایک تجربہ کار اور معتبر آواز سے محروم ہو گئی ہے۔

داسو کرشنا مورتی نے صحافت کے شعبے میں کئی دہائیوں تک خدمات انجام دیں اور انہیں اپنے عہد کے باوقار صحافیوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ ان کی پیشہ ورانہ زندگی علم، دیانت اور تدریس سے جڑی رہی۔

انہوں نے 1954-55 میں جامعہ عثمانیہ سے صحافت کی تعلیم حاصل کی، جہاں وہ صحافت کے اولین طلبہ میں شامل تھے۔ بعد ازاں انہوں نے انڈین ایکسپریس، ٹائمز آف انڈیا اور پیٹریاٹ جیسے قومی اخبارات میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

تدریسی خدمات اور اعزاز | Veteran Journalist

صحافت کے ساتھ ساتھ انہوں نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونیکیشن دہلی میں اسوسی ایٹ پروفیسر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ وہ جامعہ عثمانیہ، آندھرا پردیش اوپن یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف حیدرآباد میں مہمان استاد بھی رہے۔

ان کی عمر بھر کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں 2024 میں جامعہ عثمانیہ کے سابق طلبہ کی انجمن نے انہیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا تھا۔ یہ اعزاز ان کے لیے ایک یادگار لمحہ ثابت ہوا۔

ذاتی زندگی اور تعزیت | Veteran Journalist

داسو کرشنا مورتی، معروف صحافی داسو کیسواراؤ کے بڑے بھائی تھے، جو حیدرآباد میں ایک قومی اخبار سے وابستہ رہے۔ وہ 2001 میں اپنی بیٹی اور اہلِ خانہ کے ساتھ رہائش کے لیے امریکا منتقل ہو گئے تھے۔

ان کے انتقال پر مختلف صحافتی تنظیموں اور سینئر صحافیوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور سوگوار خاندان سے تعزیت کی ہے۔ صحافتی حلقوں میں انہیں ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔