Read in English  
       
Cyber Crackdown

حیدرآباد: سائبرآباد سائبر کرائم پولیس نے ہفتہ کو ایک بڑے سائبر فراڈ نیٹ ورک کے چھ افراد کو گرفتار کیا۔ یہ گروہ جعلی ٹریڈنگ ایپس چلانے والے اسکیمرز کو سم کارڈز، چیک بکس اور بینک اکاؤنٹس فراہم کرتا تھا۔ کیس کو کرائم نمبر 2260/2025 کے تحت درج کیا گیا اور ملزمین پر بی این ایس کی متعدد دفعات اور آئی ٹی ایکٹ کی سیکشن 66-D کے تحت مقدمہ بنایا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ نیٹ ورک مختلف ریاستوں میں سرگرم تھا اور منی لانڈرنگ میں میول اکاؤنٹس کا استعمال کیا جاتا تھا۔ گرفتار افراد میں وینی گالا سرینیواس راؤ، چٹّا گنیش، گنڈلورو نوین کمار ریڈّی، ساتھوری راجیش، ایم سدھیر اور محمد اشرف شامل ہیں۔

جعلی ٹریڈنگ ایپس سے جڑا مالی فراڈ | Cyber Crackdown

سرینیواس راؤ اور چٹّا گنیش سم کارڈز اور بینک اکاؤنٹس حاصل کرتے تھے، جبکہ نوین کمار ریڈّی ایسے افراد تلاش کرتا تھا جو اپنی تفصیلات کرائے پر دینے کے لیے تیار ہوں۔ یہ تمام اکاؤنٹس ساتھوری راجیش کے حوالے کیے جاتے، جو ہر ایک کروڑ کی ٹرانزیکشن پر 1 لاکھ روپئے اور ہر اکاؤنٹ پر 10,000 روپئے وصول کرتا تھا۔

اس کے بعد راجیش یہ ڈیٹا مڈڈیرالا سدھیر اور محمد اشرف کو فروخت کرتا۔ سدھیر 5 فیصد کمیشن پر اکاؤنٹ معلومات آگے بھیجتا جبکہ اشرف “Sybo_pay” نامی ٹیلیگرام آئی ڈی کے ذریعے اکاؤنٹس منتقل کرتا اور 2 فیصد کمیشن لیتا تھا۔

پولیس نے سات موبائل فون، 11 سم کارڈز اور تین چیک بکس ضبط کیے۔ فارنزک جانچ میں تقریباً 400 سائبر فراڈ کیسوں سے اس گروہ کا تعلق سامنے آیا، جن میں تین سائبرآباد میں درج ہیں۔ مجموعی نقصان کا تخمینہ 1.09 کروڑ روپئے لگایا گیا ہے۔

تحقیقات کا دائرہ وسیع، مزید گرفتاریاں متوقع | Cyber Crackdown

انسپکٹر جی وجے کمار، وی ڈی آر ایل درگا، ڈی پالویلی اور سندیپ کی قیادت میں ٹیم تحقیقات کر رہی ہے جبکہ اے سی پی اے رویندرا ریڈّی اور ڈی سی پی وائی وی ایس سدھیرندرا نگرانی کر رہے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ کئی ملزمان تاحال مفرور ہیں اور زیر حراست افراد سے پوچھ گچھ جاری ہے تاکہ پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے۔

پولیس نے خبردار کیا کہ کمیشن کے بدلے اکاؤنٹس، سم کارڈز یا او ٹی پیز فراہم کرنا جرم ہے اور اس پر سخت قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ کسی بھی مشکوک مالی سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر دیں۔

سائبرآباد میں یہ کارروائی آن لائن مالی جرائم کے بڑھتے خطرات کو اجاگر کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی بیداری اور سخت نگرانی ہی ایسے فراڈ گروہوں کے خلاف مؤثر دفاع ثابت ہو سکتی ہے۔