Read in English  
       
Urdu Journalism

حیدرآباد: اردو صحافت کے ممتاز نام اور ادبی حلقوں میں نہایت معتبر شخصیت غضنفر علی خان طویل علالت کے بعد حیدرآباد میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی خبر سے اردو صحافتی دنیا میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔

غضنفر علی خان نے حیدرآباد کے کئی اہم اخبارات میں طویل عرصے تک خدمات انجام دیں۔ وہ اپنی سنجیدہ تحریروں، گہرے تجزیوں اور شائستہ اسلوب کی بدولت قارئین میں خاص مقام رکھتے تھے، جبکہ ان کے کالم باقاعدگی سے بڑے اردو روزناموں میں شائع ہوتے رہے۔

صحافتی خدمات کے ساتھ ساتھ، انہوں نے آندھرا پردیش اردو اکیڈمی میں جوائنٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ اس دوران، اردو زبان و ادب کے فروغ میں ان کا کردار نمایاں رہا اور کئی علمی و ثقافتی سرگرمیوں کو تقویت ملی۔

نمازِ جنازہ اور تدفین کی تفصیلات | Urdu Journalism

مرحوم کی نمازِ جنازہ بدھ کی شب عشاء کی نماز کے بعد مسجد فردوس، ملک پیٹ میں ادا کی گئی۔ تدفین مسجد کے متصل قبرستان میں، عالمگیر مسجد کے قریب عمل میں آئی۔

اہلِ خانہ کے مطابق، نمازِ جنازہ اور تدفین کے بعد مرحوم کو ان کے آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ انہوں نے احباب اور متعلقین سے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی اپیل کی ہے۔

صحافتی حلقوں میں خراجِ عقیدت | Urdu Journalism

غضنفر علی خان کے انتقال پر صحافیوں، ادیبوں اور سماجی شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مرحوم نے اردو صحافت کو وقار، دیانت اور فکری گہرائی بخشی، جس کی کمی طویل عرصے تک محسوس کی جائے گی۔

مرحوم کے اہلِ خانہ نے مزید معلومات کے لیے ان کے صاحبزادے دانش سے رابطہ کرنے کی درخواست کی ہے۔