Read in English  
       
Fertiliser Reform

حیدرآباد: تلنگانہ حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی یوریا ایپ کسانوں کے لیے ایک مضبوط سہارا بن کر ابھری ہے۔ اس ایپ کے ذریعے کھاد کی فراہمی کے نظام میں شفافیت اور مؤثریت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ بدعنوانی کے امکانات بھی کم ہوئے ہیں۔

حکومت کے مطابق، یوریا کی تقسیم میں پہلے بلیک مارکیٹنگ اور دلالوں کی مداخلت ایک بڑا مسئلہ تھی۔ تاہم، ضلع یونٹ کی بنیاد پر بُکنگ سسٹم نافذ کیے جانے کے بعد اب مقامی ضرورت کے مطابق کھاد کی فراہمی ممکن ہو سکی ہے، اور ہر کسان تک اس کا منصفانہ حصہ پہنچ رہا ہے۔

بلیک مارکیٹنگ پر قابو | Fertiliser Reform

نئے نظام کے تحت کسان اپنی فصل کی نوعیت کے مطابق ہی یوریا کی بُکنگ کر سکتے ہیں۔ نتیجتاً، اصل مستحق کسانوں تک کھاد پہنچ رہی ہے اور غیر ضروری ذخیرہ اندوزی یا غلط استعمال میں واضح کمی آئی ہے۔

حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یوریا ایپ محض ایک تکنیکی قدم نہیں بلکہ اصلاحاتی سوچ پر مبنی ایک جامع اقدام ہے۔ اسی لیے، یہ نظام سپلائی چین میں جواب دہی اور اعتماد کو بھی مضبوط بنا رہا ہے۔

اعداد و شمار اور زمینی فیڈ بیک | Fertiliser Reform

منڈل سطح سے لے کر سینئر افسران تک باقاعدگی سے کسانوں سے رابطہ رکھا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ زمینی سطح پر ملنے والی آراء کی بنیاد پر ایپ میں بروقت تبدیلیاں کی جا رہی ہیں تاکہ استعمال مزید آسان اور مؤثر بنایا جا سکے۔

فی الحال، یوریا ایپ ریاست کے 22 اضلاع میں فعال ہے۔ اس کے ذریعے اب تک 5.75 لاکھ کسانوں نے کھاد خریدی ہے، جبکہ مجموعی طور پر 20.79 لاکھ تھیلے یوریا فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اس طرح، تاہم، حکومت مسلسل نفاذ کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ کسانوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔

حکام نے واضح کیا کہ کسانوں کی فلاح یوریا ایپ کا بنیادی مقصد ہے۔ اسی لیے یہ نظام مستقبل میں بھی بہتر بنایا جاتا رہے گا تاکہ کھاد کی منصفانہ تقسیم یقینی ہو اور کسان استحصال سے محفوظ رہیں۔