Read in English  
       
Academic Freedom

حیدرآباد: عثمانیہ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کی معطلی کے خلاف سیاسی اور تعلیمی حلقوں میں ردعمل تیز ہو گیا ہے۔ سابق رکن قانون ساز کونسل ڈاکٹر سراون کمار داسوجو نے اس معاملے پر تلنگانہ کے گورنر کو باقاعدہ شکایت پیش کرتے ہوئے کارروائی کو غیر آئینی اور غیر جمہوری قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اعلیٰ تعلیمی اقدار کے منافی ہے۔

درخواست میں ڈاکٹر داسوجو نے گورنر سے مطالبہ کیا کہ وہ مداخلت کرتے ہوئے فوری طور پر معطلی کا حکم واپس لیں۔ ان کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ بغیر کسی شفاف عمل کے اختلافی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے، جو تعلیمی آزادی کے اصولوں کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیاں فکر و دانش کے مراکز ہوتی ہیں، نہ کہ ایسے ادارے جہاں خوف کے ذریعے خاموشی مسلط کی جائے۔ ان کا الزام تھا کہ کسی بھی انکوائری کے بغیر کارروائی کرنا آمرانہ طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے۔

اختلافِ رائے اور یونیورسٹی اقدار | Academic Freedom

ڈاکٹر داسوجو نے یونیورسٹی حکام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات اساتذہ میں خوف پیدا کرنے کے مترادف ہیں۔ ان کے بقول، انتظامیہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرح برتاؤ کر رہی ہے اور اختلافی آوازوں کو کچلنے کی کوشش کر رہی ہے، جو ادارے کے جمہوری مزاج کو نقصان پہنچاتا ہے۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پروفیسر منوہر کی معطلی عثمانیہ یونیورسٹی کی تاریخی روایت کو نقصان پہنچانے کی ایک کڑی ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام سوال اٹھانے والی آوازوں کو خاموش کرنے اور آئینی اصولوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

جمہوریت پر حملہ قرار | Academic Freedom

اپنی نمائندگی میں ڈاکٹر داسوجو نے کہا کہ جامعات میں اختلافِ رائے کو دبانا دراصل جمہوریت پر حملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تعلیمی اداروں میں سوال کرنے کی آزادی ختم ہو جائے تو معاشرے کی فکری بنیادیں کمزور ہو جاتی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ محض ایک فرد کی معطلی تک محدود نہیں بلکہ ریاست میں جامعات کے کردار اور خودمختاری پر ایک بڑے سوال کو جنم دے رہا ہے، جس پر آنے والے دنوں میں مزید بحث متوقع ہے۔