Read in English  
       
MLA Disqualification

حیدرآباد: تلنگانہ میں ایم ایل اے نااہلی کے معاملات پر سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز اہم ہدایات جاری کیں، جس سے ریاستی سیاست میں نئی ہلچل پیدا ہو گئی۔ عدالت عظمیٰ نے اسمبلی اسپیکر گڈم پرساد کمار کو ہدایت دی ہے کہ وہ دو ہفتوں کے اندر اپنے اب تک کیے گئے اقدامات سے متعلق حلف نامہ داخل کریں۔

سماعت کے دوران عدالت نے مبینہ انحراف سے جڑی درخواستوں کا جائزہ لیا۔ اس کے بعد بنچ نے معاملے کی مزید سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی، جبکہ زیر التوا فیصلوں پر واضح مؤقف سامنے آنے کی توقع ظاہر کی۔

اس موقع پر اسپیکر کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے عدالت کو بتایا کہ سات معاملات میں فیصلے پہلے ہی سنائے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر کی آنکھوں کی سرجری اور سیکریٹری جنرل میں حالیہ تبدیلی کے باعث کچھ تاخیر ہوئی۔

تاہم انہوں نے بقیہ معاملات نمٹانے کے لیے مزید وقت کی درخواست کی اور مؤقف اختیار کیا کہ اسپیکر کو فیصلہ مکمل کرنے کے لیے مہلت درکار ہے۔

عدالت کی ناراضی اور آخری موقع | MLA Disqualification

اس مرحلے پر سپریم کورٹ نے تاخیر پر ناراضی ظاہر کی اور کہا کہ پہلے ہی مناسب وقت دیا جا چکا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اب اسپیکر کو آخری موقع دیا جا رہا ہے۔

بنچ نے ہدایت دی کہ باقی ماندہ ایم ایل اے نااہلی کے معاملات دو ہفتوں کے اندر نمٹائے جائیں۔ اس کے ساتھ ہی اسپیکر کو اسی مدت میں ایک تفصیلی حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا گیا، جس میں زیر التوا درخواستوں پر اٹھائے گئے اقدامات کی وضاحت کرنا لازمی ہوگا۔

آئندہ سماعت اور سیاسی اثرات | MLA Disqualification

عدالت نے واضح کیا کہ دو ہفتوں بعد معاملے کی دوبارہ سماعت کی جائے گی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس حکم سے تلنگانہ کی سیاست میں غیر یقینی صورتحال مزید گہری ہو سکتی ہے، کیونکہ آنے والے فیصلے حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

اب سب کی نظریں اسمبلی اسپیکر کے اگلے اقدام اور سپریم کورٹ کی آئندہ سماعت پر مرکوز ہیں، جو ریاست کی سیاسی سمت کا تعین کر سکتی ہے۔