
حیدرآباد: کرشنا اور گوداوری دریاؤں میں جمعہ کے روز شدید بہاؤ کے بعد حکام نے فلڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے نچلے علاقوں کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کردیے۔ بالائی علاقوں میں بھاری بارشوں کے سبب Krishna Godavariذخائر اپنی مکمل گنجائش تک پہنچ گئے اور بڑے پیمانے پر پانی چھوڑنے کے باعث نشیبی دیہات متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے۔
محکمہ آبپاشی کے مطابق مہاراشٹرا، کرناٹک اور تلنگانہ کے کیچمنٹ علاقوں میں موسلا دھار بارش کے سبب دریائی ذخائر اور بیراجوں میں لاکھوں کیوسک پانی داخل ہوا۔ 29 اگست دوپہر تک فلڈ بلیٹنز کے مطابق مختلف منصوبوں میں خطرناک سطح پر پانی آنے کے بعد پانی کی بڑے پیمانے پر نکاسی کی گئی۔
کرشنا بیسن میں سری سیلم ذخیرہ اپنی مکمل سطح 885 فٹ تک پہنچ گیا جس میں 215.81 ٹی ایم سی پانی بھرا ہوا ہے۔ یہاں 2.95 لاکھ کیوسک پانی داخل ہوا جبکہ 3.34 لاکھ کیوسک پانی چھوڑا گیا۔ اس کے بعد ناگرجنا ساگر ڈیم بھی اپنی مکمل سطح 590 فٹ تک پہنچ گیا جہاں 312.05 ٹی ایم سی پانی ذخیرہ کیا گیا ہے۔ یہاں بھی 2.60 لاکھ کیوسک پانی اندر آیا اور اتنی ہی مقدار میں چھوڑا گیا۔ مزید بارش کی صورت میں نچلے علاقوں میں خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
پلی چنتلا پراجیکٹ میں 2.50 لاکھ کیوسک پانی آیا اور 2.11 لاکھ کیوسک چھوڑا گیا۔ جُرالا اور تُنگبھدرا ڈیموں میں بھی بھاری مقدار میں پانی داخل ہوا۔ کرناٹک میں علمٹی اور نرائن پور ذخائر سے بھی مسلسل پانی چھوڑا جا رہا ہے۔ اگرچہ انجینئرنگ ٹیموں نے ڈھانچوں کو محفوظ قرار دیا ہے لیکن ذخیرہ نہ رہنے کے سبب فلڈ کنٹرول کی گنجائش ختم ہوگئی ہے۔
گوداوری بیسن میں ریکارڈ بہاؤ
گوداوری بیسن میں سری رام ساگر پراجیکٹ میں 4.30 لاکھ کیوسک پانی داخل ہوا اور 5.25 لاکھ کیوسک پانی چھوڑا گیا۔ نظام ساگر میں 1.61 لاکھ کیوسک پانی ریکارڈ کیا گیا۔ سری پدا ایلّم پلی پراجیکٹ میں 7.15 لاکھ کیوسک پانی آیا اور 6.96 لاکھ کیوسک پانی چھوڑا گیا جس سے دباؤ مزید بڑھ گیا۔
کالیشورم پراجیکٹ کے میڈی گڈہ بیراج میں 9.36 لاکھ کیوسک بہاؤ ریکارڈ کیا گیا جبکہ سمکّا ساگر (توپکولو گوڈم) سے 8.37 لاکھ کیوسک پانی چھوڑا گیا۔ بھدرآچلم میں پانی کی سطح 37.5 فٹ تک پہنچ گئی جہاں 6.87 لاکھ کیوسک پانی داخل ہوا۔ بھدرادری کوتہ گوڈم ضلع کے نشیبی منڈلوں میں انتباہ جاری کیا گیا ہے اور خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اوپری علاقوں سے مزید پانی چھوڑا گیا تو سطح خطرہ نشان کو عبور کرسکتی ہے۔
گزشتہ سال کے مقابلے اس بار پانی کی آمد کہیں زیادہ ہے۔ سری سیلم اور ناگرجنا ساگر میں 2024 کے دوران اتنی مقدار ریکارڈ نہیں ہوئی تھی جبکہ یلّمپلی اور میڈی گڈہ میں بھی اس سطح کا بہاؤ پہلی مرتبہ دیکھا گیا ہے۔
ہنگامی اقدامات اور حکام کی تیاری
انجینئرنگ ٹیموں کو ڈیمز کی مسلسل نگرانی کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔ ضلعی کلکٹرس کو متبادل منصوبے تیار رکھنے، پشتوں کو مضبوط کرنے اور نشیبی علاقوں میں نکاسی کے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ کئی مقامات پر ریت کے تھیلے رکھے جا رہے ہیں اور فلڈ ڈرلز بھی کی جا رہی ہیں۔
محکمہ موسمیات نے مہاراشٹرا اور چھتیس گڑھ میں مزید بارش کی پیشگوئی کی ہے جس سے پانی کی آمد اور بڑھنے کا امکان ہے۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ ذخائر اپنی مکمل گنجائش پر ہیں اور مزید پانی آتے ہی فوری طور پر نکاسی کرنی ہوگی۔ عوامی سلامتی اور ڈھانچوں کا تحفظ سب سے اہم ترجیح ہے۔
کرشنا اور گوداوری دریائی نظام پر موجودہ دباؤ نے حکام کو آبپاشی اور برقی پیداوار کے درمیان توازن قائم رکھنے اور فوری طور پر فلڈ کنٹرول کو اولین ترجیح دینے پر مجبور کردیا ہے۔