
حیدرآباد: Telangana Rice کی مانگ میں قومی سطح پر اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور فی الحال یہ چاول آٹھ ریاستوں کو برآمد کیا جا رہا ہے۔ یہ بات فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کی کنسلٹیٹو کمیٹی کی صدر اور بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ ڈی کے ارونا نے جمعرات کو بتائی۔
ایچ اے سی اے بھون میں منعقدہ تلنگانہ اسٹیٹ کنسلٹیٹو کمیٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ارونا نے بتایا کہ ایف سی آئی کی کارروائیوں، اناج کی خریداری میں حائل رکاوٹوں، گوداموں کی دیکھ بھال اور ذخیرہ اندوزی کے مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں ہر سال اناج کی خریداری میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ تلنگانہ میں تیار کردہ چاول کی بہتر مارکیٹ مقبولیت ہے۔
ڈی کے ارونا نے نشاندہی کی کہ بڑھتی ہوئی خریداری کے باوجود ریاست میں گوداموں کی کمی ایک مستقل مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امدادی قیمتوں میں اضافے کے سبب اب زیادہ کسان ایف سی آئی کو براہِ راست اناج فروخت کر رہے ہیں، جس سے گودام کے بنیادی ڈھانچے میں توسیع کی فوری ضرورت پیدا ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2014 کے بعد مرکز نے اناج کی خریداری کی ذمہ داری ریاستوں کو سونپ دی، لیکن مالی امداد کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس وقت ریاست کے مختلف اہم علاقوں میں نئے گوداموں کی تعمیر کے لیے تجاویز تیار کی جا رہی ہیں۔
ڈی کے ارونا نے کہا کہ وہ تلنگانہ میں ایف سی آئی کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے ایک “فورس ملٹی پلائر” کے طور پر کام کریں گی تاکہ کسانوں اور صارفین دونوں کو بہتر سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ عہدیداروں کے ساتھ سہ ماہی جائزہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے، اور مرکز کا شکریہ ادا کیا کہ انہیں اس کمیٹی کی قیادت کی ذمہ داری دی گئی۔