Read in English  
       
TCS

حیدرآباد: ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز TCS، جو ہندوستانی آئی ٹی سیکٹر میں طویل عرصے سے ملازم دوست کمپنی سمجھی جاتی ہے، اب تنخواہوں میں تاخیر اور برخاستگی کے خدشات پر تنقید کی زد میں ہے۔ پونے میں کمپنی کے ایک ملازم نے اپنی تنخواہ نہ ملنے پر دفتر کے باہر فٹ پاتھ پر سونے کا احتجاج درج کرایا، جس نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیا۔

مظاہرہ کرنے والے شخص کی شناخت سوربھ مورے کے طور پر ہوئی ہے، جو پونے کے سہیا دری پارک کیمپس کے باہر فٹ پاتھ پر لیٹے نظر آئے، ان کا دفتر کا بیگ تکیہ کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ سوربھ نے ایک ہاتھ سے لکھی گئی درخواست کمپنی کو پیش کی، جس میں کہا گیا کہ وہ 29 جولائی کو دوبارہ ڈیوٹی پر حاضر ہوئے لیکن اب تک نہ تو تنخواہ ملی اور نہ ہی ان کا ایمپلائی آئی ڈی دوبارہ فعال کیا گیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ 30 جولائی کو ایچ آر حکام نے بس اتنا کہا کہ “امید ہے 31 جولائی کو تنخواہ مل جائے گی” لیکن کوئی حتمی یقین دہانی نہیں دی گئی۔ تب سے سوربھ دفتر کے باہر ہی سو رہے ہیں۔

TCS کی ساکھ کو اس واقعے سے شدید دھچکا لگا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کمپنی نے آپریشنل اخراجات میں کمی اور مصنوعی ذہانت پر منتقلی کے نام پر اپنے عالمی عملے میں سے 2 فیصد، یعنی تقریباً 12,000 ملازمین کی چھانٹی کا اعلان کیا ہے۔

فورم فار آئی ٹی ایمپلائز (FITE) کے مطابق، یہ واقعہ ہندوستانی آئی ٹی شعبے میں بڑھتے ہوئے اضطراب کی علامت ہے۔ اپریل تا جون سہ ماہی میں ملک کی چھ بڑی آئی ٹی کمپنیوں نے صرف 3,847 نئی بھرتیاں کیں، جو گزشتہ سہ ماہی کی 13,935 بھرتیوں کے مقابلے میں 72 فیصد کمی ہے۔

TCS ان کمپنیوں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جو حالیہ دنوں میں بڑے پیمانے پر ملازمین کی چھانٹی کر چکی ہیں، ان میں Microsoft اور Intel بھی شامل ہیں۔ FITE نے ملازمین پر زور دیا کہ وہ محض سوشل میڈیا پر آواز بلند کرنے کے بجائے قانونی چارہ جوئی بھی کریں، کیونکہ ہندوستانی لیبر قوانین تنخواہ اور ملازمت کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔