Read in English  
       
Shabbir Ali

حیدرآباد: حکومت تلنگانہ کے مشیر اور سینئر کانگریس قائد محمد علی شبیر [en]Shabbir Ali[/en] نے ہفتہ کے روز دبیرپورہ میں واقع بی بی کا الاوہ پر حاضری دیتے ہوئے امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقا کو کربلا میں دی گئی قربانی پر خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے بی بی کا علمِ مبارک پر پھول اور ڈھٹی پیش کی، اور محرم کے ان ایام میں روایتی عقیدت کا مظاہرہ کیا، جسے حیدرآباد کے لاکھوں عقیدت مند نسلوں سے نبھاتے آ رہے ہیں۔

اس موقع پر ان کے ہمراہ صدر ڈی سی سی حیدرآباد ولی اللہ سمیر، ٹی پی سی سی ترجمان سید نظام الدین، چارمینار حلقہ انچارج مجیب اللہ شریف، یاقوت پورہ انچارج راجندر راجو، اور دیگر سینئر کانگریس قائدین بھی موجود تھے۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ امام حسینؓ کی قربانی عدل و حق کے لیے ایک عظیم مثال ہے، جو تمام انسانیت کے لیے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کربلا کی قربانی صرف ایک مذہبی واقعہ نہیں بلکہ ظلم کے خلاف جدوجہد کی علامت ہے۔

Shabbir Ali

انہوں نے غزہ میں اسرائیلی حملوں کی سخت مذمت کی اور کہا کہ ہزاروں معصوم افراد، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، کا قتل عام ایک سنگین بربریت ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ فوری مداخلت کرتے ہوئے خونریزی کو روکے، اور کہا کہ ایسی درندگی پر خاموشی اختیار کرنا ناقابل قبول ہے۔

مقامی سطح پر انتظامات کا ذکر کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ کانگریس حکومت محرم کے پروگراموں کو باوقار اور محفوظ بنانے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔ انہوں نے بی بی کا علم کے لیے روایتی ہاتھی کے انتظامات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ صدیوں پرانی اس روایت کو جاری رکھنے کے لیے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے دو ہاتھیوں کی خریداری کی منظوری دی ہے، تاکہ انہیں سرکاری، مذہبی و ثقافتی جلوسوں میں شامل کیا جا سکے۔

انہوں نے ضلع انتظامیہ حیدرآباد کی جانب سے سیکیورٹی، صفائی، اور ہنگامی خدمات جیسے مکمل انتظامات کی ستائش کی۔

محمد علی شبیر نے کہا کہ حیدرآباد کا محرم، جو اپنے پیمانے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے جانا جاتا ہے، لاکھوں افراد کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے جو کربلا کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے آتے ہیں۔ بی بی کا الاوہ کا جلوس، جو قطب شاہی اور نظامی دور سے چلا آ رہا ہے، اتحاد اور قربانی کی علامت ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ کانگریس حکومت ان روحانی اور ثقافتی ورثوں کے تحفظ کے لیے ہمیشہ ساتھ رہے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *