Read in English  
       
RTC Retired Workers

حیدرآباد: بی آر ایس ایم ایل سی کے کویتا نے ریاستی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اس نے ہزاروں RTC Retired Workersکی پنشن اور دیگر واجبات ادا نہ کرکے انہیں مالی پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ انہوں نے ریاست بھر کے ڈپوز میں جاری احتجاج کی حمایت کی اور کانگریس حکومت پر سنگین غفلت کا الزام عائد کیا۔

سوشیل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری بیان میں کویتا نے لکھا کہ RTC Retired Workers کی تعداد 15,000 سے زیادہ ہے اور یہ تمام افراد پنشن اور سیٹلمنٹ کے بغیر جینے پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا تھا: “اندرا ماں راجیم میں ریٹائرڈ آر ٹی سی ملازمین بھوکے ہیں۔ جنہوں نے دہائیوں تک خدمت کی، آج ان کے پاس نہ پنشن ہے نہ واجبات۔ حکومت کی خاموشی شرمناک ہے۔”

کویتا نے کہا کہ حکومت ایک طرف یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ آر ٹی سی منافع میں ہے، مگر دوسری طرف ان ہی ملازمین کو ان کا حق نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سب سے زیادہ متاثرہ افراد میں ڈرائیور اور کنڈکٹر جیسے کم تنخواہ والے کیڈرز شامل ہیں، جنہوں نے پنشن کی اہلیت کے بغیر سبکدوشی اختیار کی۔

ریٹائرڈ ملازمین کا الزام ہے کہ انہیں لیو انکیشمنٹ، سی سی ایس کی ادائیگی، اور 2017 کی پے ریویژن سے متعلق بقایا جات نہیں مل رہے۔ احتجاج کرنے والوں کے مطابق، ایک سال سے زیادہ عرصے سے یہ ادائیگیاں رکی ہوئی ہیں، جس کی وجہ سے کئی خاندان مالی بحران سے دوچار ہیں۔

ریاست کے مختلف آر ٹی سی ڈپوز پر گزشتہ ہفتے مظاہرے کیے گئے، جن میں ریٹائرڈ ملازمین نے جلد از جلد پنشن اور واجبات کی اجرائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ جب تک مسئلہ حل نہیں ہوتا، وہ ہر پیر کو احتجاج جاری رکھیں گے۔

کویتا نے حکومت، آر ٹی سی انتظامیہ، اور مرکزی و ریاستی اداروں سے اپیل کی کہ فوری مداخلت کرتے ہوئے تمام بقایا جات کی اجرائی کو یقینی بنائیں اور تقریباً 16,000 خاندانوں کو درپیش بحران کا حل نکالا جائے۔