
حیدرآباد: مشہور فلم اداکار Prakash Raj EDبدھ کے روز انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے روبرو حیدرآباد میں پیش ہوئے، جہاں ان سے ایک بیٹنگ ایپ کی ترویج سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں تقریباً پانچ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی۔ افسران نے ان کے بینک اکاؤنٹس کا معائنہ کیا اور مالی لین دین و تشہیری وابستگی سے متعلق سوالات کیے۔
ذرائع کے مطابق ای ڈی حکام نے پرکاش راج سے دریافت کیا کہ انہوں نے یہ بیٹنگ ایپ کب اور کیوں پروموٹ کی۔ انہوں نے مبینہ طور پر بتایا کہ انہوں نے 2016 میں اس ایپ کی تشہیر کی تھی اور اس وقت انہیں معلوم نہیں تھا کہ یہ کسی غیرمناسب سرگرمی سے جڑی ہے۔ راج نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پانچ سال بعد دوبارہ رابطہ کیے جانے پر انہوں نے ایپ کی پروموشن سے انکار کر دیا تھا۔
ای ڈی نے اس بات کی بھی تفتیش کی کہ آیا پرکاش راج کو 2016 میں ایپ کی تشہیر کے عوض کوئی معاوضہ ملا تھا۔ راج نے مبینہ طور پر ادائیگی سے انکار کیا، لیکن یہ واضح نہیں کر سکے کہ اگر انہیں کوئی فیس نہیں ملی تو وہ اس کی ترویج کے لیے کیوں راضی ہوئے۔
تحقیقات کے دوران ان کے بینک لین دین کی باریک بینی سے جانچ کی گئی۔
ای ڈی دفتر سے باہر آ کر پرکاش راج نے مختصر بات چیت میں کہا: میں نے ای ڈی حکام کو بتایا کہ میں نے بیٹنگ ایپ کی تشہیر کے بدلے کوئی رقم قبول نہیں کی۔ انہوں نے میرے بینک ریکارڈز کی جانچ کی۔ میں نے ایک ذمہ دار شہری کے طور پر مکمل تعاون کیا۔ مجھے دوبارہ طلب نہیں کیا گیا ہے۔ میں سب سے گزارش کرتا ہوں کہ بیٹنگ جیسے غیرقانونی کاموں میں نہ پڑیں۔
ای ڈی اس وقت کئی مشہور شخصیات کے خلاف تحقیقات کر رہا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر بیٹنگ ایپس کی تشہیر کے بدلے حوالہ اور منی لانڈرنگ نیٹ ورکس سے جڑے مالی فائدے حاصل کیے۔ دیگر کئی فلمی شخصیات بھی اس کیس میں پہلے ہی پوچھ گچھ کا سامنا کر چکی ہیں۔