Read in English  
       
Criminal Case

حیدرآباد: نامپلی عدالت نے وزیر کونڈا سُریکھا کے خلاف بی آر ایس قائد کے ٹی راما راؤ کی طرف سے دائر کردہ ہتک عزت شکایت پر Criminal Caseدرج کرنے کا حکم دیا ہے۔

کے ٹی آر کے وکیل سدھارتھ پوگولا نے جو شواہد عدالت میں پیش کیے، عدالت نے انہیں قابل غور قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مقدمہ میں ابتدائی طور پر دفعہ 356 بہارتیہ نیا ئے سنہیتا (BNSS) کے تحت فوجداری مقدمہ بنتا ہے۔ عدالت نے مزید کارروائی کے لیے بی این ایس ایس کی دفعات 222 اور 223 کا بھی اطلاق کیا۔

کونڈا سُریکھا کی قانونی ٹیم نے عدالت کے دائرہ اختیار پر اعتراض کیا، لیکن عدالت نے ایک سابقہ ہائی کورٹ فیصلے (کریمنل پٹیشن نمبر 5670/2024) کا حوالہ دیتے ہوئے اس اعتراض کو مسترد کر دیا اور کہا کہ اس کے پاس کارروائی کا مکمل اختیار ہے۔

عدالت میں ایک پین ڈرائیو بطور ثبوت پیش کی گئی۔ دفاعی وکیل نے اعتراض کیا کہ اس کی باقاعدہ سند موجود نہیں، تاہم عدالت نے واضح کیا کہ ایسی تکنیکی باتوں کو ٹرائل کے دوران دیکھا جا سکتا ہے۔

عدالت نے اس بات کو بھی نوٹ کیا کہ میڈیا میں سُریکھا کے مبینہ ریمارکس سے متعلق کوئی مصدقہ رپورٹ موجود نہیں، لہٰذا یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ یہ بیانات خود سُریکھا نے ہی دیے تھے۔

پانچ گواہوں کی گواہی اور دیگر تحریری شواہد کی بنیاد پر عدالت نے فیصلہ دیا کہ یہ معاملہ ہتک عزت کے واضح جرم کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

عدالت نے دفاع کا یہ دعویٰ بھی مسترد کر دیا کہ شکایت محض سیاسی مقاصد کے تحت کی گئی ہے۔ عدالت نے کہا کہ قانونی بنیادیں اس قدر مضبوط ہیں کہ فوجداری کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔

یہ تازہ حکم نامہ وزیر سُریکھا کے خلاف ہتک عزت کے تنازعے کو مزید سنگین بناتا ہے جس پر پہلے ہی سیاسی حلقوں کی نظر ہے۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ بلا تاخیر مقدمہ درج کرے اور وزیر کو 21 اگست 2025 تک نوٹس جاری کیا جائے۔