Read in English  
       
BC reservations

حیدرآباد: تلنگانہ جاگرُتی کی صدر اور قانون ساز کونسل کی رکن کلواکنٹلہ کویتا نے بی جے پی اور کانگریس دونوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے الزام لگایا کہ دونوں جماعتیں پسماندہ طبقات (بی سی) BC reservationsکے ساتھ مخلص نہیں ہیں اور صرف سیاسی فائدے کے لیے ان کا استعمال کر رہی ہیں۔

بدھ کے روز جوبلی ہلز میں منعقدہ تلنگانہ جاگرُتی کے یوم تاسیس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ ان کی تنظیم تلنگانہ کی شناخت، ثقافت، اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے قائم کی گئی تھی، اور یہ کے سی آر اور پروفیسر جئے شنکر کے نظریات پر قائم ہے۔

“ریونت ریڈی نے کبھی ‘جئے تلنگانہ’ نہیں کہا”

انہوں نے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی تلنگانہ کے نعرے کے ساتھ نہیں کھڑے ہوئے اور آج دہلی میں کانگریس کے دھرنے محض دکھاوا ہیں۔ کویتا نے اعلان کیا کہ تلنگانہ جاگرُتی بی سی طبقات کے حقوق کے لیے جلد ایک احتجاجی مہم شروع کرے گی۔

بی سی ریزرویشن پر آل پارٹی وفد کا مطالبہ

کویتا نے بی جے پی قائد بندی سنجے پر بھی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ مسلمانوں کو بی سی فہرست سے خارج کرنے کی بات کرتے ہیں، لیکن بی سی بہبود پر خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا،

“اگر بنڈی سنجے مسلم کوٹہ پر کچھ نہ کہیں تو حیرت ہوگی۔”

کویتا نے کانگریس حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بی سی ریزرویشن کے مسئلے پر تمام جماعتوں کا مشترکہ وفد دہلی لے جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ صدر جمہوریہ سے وقت لے کر نمائندگی کرے اور تمام سیاسی پارٹیوں کو خط لکھے۔

جاگرُتی کے احتجاج پر عدالت سے اجازت نہ ملنے کا انکشاف

کویتا نے بتایا کہ تلنگانہ جاگرُتی نے 72 گھنٹے کا احتجاج منعقد کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی، لیکن عدالت نے اس کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ 15 اگست سے قبل نئی جاگرُتی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی اور کہا کہ تمام طبقات کے لوگ تحریک سے جڑنے کو تیار ہیں۔