
حیدرآباد: جسٹس پی سی گھوش کمیشن نے کالیشورم لفٹ ایریگیشن پراجیکٹ میں مبینہ بے قاعدگیوں اور تکنیکی خامیوں کی تحقیقات پر مبنی رپورٹ تلنگانہ حکومت کو پیش کر دی، جس کے ساتھ ہی اس متنازع منصوبے پر جاری 15 ماہ طویل تفتیش کا اختتام ہو گیا۔
Kaleshwaram Probeکی یہ رپورٹ ایک مہر بند لفافے میں کمیشن کے صدر جسٹس پی سی گھوش نے بی آر کے آر بھون میں محکمہ آبپاشی کے سکریٹری راہول بوجا کے حوالے کی۔ رپورٹ میں کالیشورم کے اہم اجزاء، بشمول میڈی گڈہ، انارم، اور سندیلا بیراجس میں مبینہ کرپشن اور ساختی ناکامیوں سے متعلق تفصیلات شامل ہیں۔
کالیشورم اسکیم، جو کبھی ریاست کا شوکیس منصوبہ سمجھی جاتی تھی، اب اخراجات میں بے تحاشہ اضافے، انجینئرنگ کی خامیوں اور جوابدہی کی کمی جیسے سوالات کے باعث سخت تنقید کی زد میں ہے۔
تحقیقات کا دائرہ مالی بے ضابطگیوں، تعمیراتی خامیوں، اور فیصلوں کی منظوری کے عمل پر مرکوز رہا۔ رپورٹ کی تیاری کے دوران ماہرین سے رائے لی گئی، درجنوں انجینئروں، سابق عہدیداروں، اور اہم سیاسی شخصیات کے بیانات قلم بند کیے گئے۔
رپورٹ ابھی چیف سکریٹری کو پیش کی جانی باقی ہے، اور حکومت اس پر کیا کارروائی کرے گی، یہ عوامی اور سیاسی حلقوں میں خاصی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔
رپورٹ کے مندرجات فی الحال منظر عام پر نہیں آئے، لیکن امکان ہے کہ اس میں مبینہ بدعنوانی کے ذمے داروں کی نشاندہی اور ساختی نقص کی وجوہات کا احاطہ کیا گیا ہو گا۔