
حیدرآباد: تلنگانہ کانگریس کے ورکنگ صدر اور سابق رکن اسمبلی جگّا ریڈی نے جمعہ کے روز بی آر ایس قیادت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے گزشتہ دس سالوں میں عوام کی فلاح کے بجائے سیاسی ڈرامہ بازی میں وقت ضائع کیا۔ انہوں نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے مرکز کے ساتھ مذاکرات کا دفاعJagga Reddy Defends کرتے ہوئے کے چندر شیکھر راؤ پر الزام لگایا کہ وہ فارم ہاؤس میں چھپ کر عوامی احتساب سے بچتے رہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے جگّا ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ پچھلے دس برسوں میں کیا ہوا، اسی لیے انہوں نے راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس کو اقتدار سونپا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کے سی آر نے ایک دہائی تک سکریٹریٹ کا رخ نہیں کیا، جبکہ ریونت ریڈی اور ان کے وزراء دہلی میں ریاست کے لیے فنڈز اور ترقیاتی منصوبے حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔
جگّا ریڈی نے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس قائدین ریونت ریڈی کے دہلی دورے پر تنقید کر رہے ہیں، کیونکہ اقتدار کے چھن جانے کا صدمہ وہ ہضم نہیں کر پا رہے۔ “آپ نے دس سال شان و شوکت سے حکومت کی، اب اقتدار چھن گیا تو برداشت نہیں ہو رہا؟” انہوں نے کہا۔
انہوں نے کے ٹی راما راؤ اور ہریش راؤ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس دور میں عوام کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا تھا کہ سکریٹریٹ کہاں ہے، اور اب جب دونوں ریاستوں کے چیف منسٹر بات چیت کر رہے ہیں تو بی آر ایس روز آنسو بہا رہی ہے۔
انہوں نے بی آر ایس کی جانب سے فون ٹیپنگ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا: “ہمیں پولیس کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں۔ اگر کچھ کرنا ہو تو کھلے عام کریں گے، ہم فارغ لوگ نہیں۔”
چندرابابو نائیڈو سے تعلقات پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے جگّا ریڈی نے یاد دلایا کہ کے سی آر خود تلگو دیشم کے وزیر رہے ہیں۔ “پہلے ٹی ڈی پی میں کون شامل ہوا؟ ریونت یا کے سی آر؟” انہوں نے سوال کیا۔
انہوں نے ہریش راؤ پر بھی طنز کرتے ہوئے کہا کہ پہلے اپنی پارٹی کے نام سے “تلنگانہ” ہٹا کر معذرت کریں، پھر ریاست سے محبت کے دعوے کریں۔
مزاحیہ انداز میں انہوں نے کہا: “اُتم کمار ریڈی فائٹر پائلٹ ہیں، اور ہریش راؤ صرف ایک اداکار۔ آپ اداکاری کرتے رہیں، اُتم اڑتے رہیں گے۔”
بی جے پی ایم پی بنڈی سنجے پر بھی تنقید کرتے ہوئے جگّا ریڈی نے کہا کہ جب بین ریاستی میٹنگ مرکز نے خود طلب کی تو ایجنڈا پر سوال اٹھانے کا کیا مطلب؟
جگّا ریڈی نے کہا کہ عوام سب کچھ دیکھ رہے ہیں، کانگریس حکومت چلانے میں مصروف ہے، جبکہ اپوزیشن صرف شور مچا رہی ہے۔ “بی آر ایس کو اقتدار کے زوال کے جھٹکے لگ رہے ہیں، اور وہ چھوٹی سوچ کی سیاست میں پھنس گئی ہے۔ تلنگانہ کو اب ایسی سیاست کی ضرورت نہیں۔”