
حیدرآباد: سابق وزیر اور بی آر ایس کے سینئر لیڈر [en]Harish Rao[/en] ٹی ہریش راؤ نے جمعہ کے روز “چلو سیکریٹریٹ” احتجاج میں شامل ہونے کی کوشش کرنے والے طلبہ اور بیروزگار نوجوانوں کی گرفتاری کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی۔
انہوں نے کہا: “یہ حکومت کی آمرانہ سوچ کی عکاسی ہے۔ طلبہ اور ملازمت کے خواہشمند نوجوانوں کو گرفتار کر کے ان کی آواز دبانا جمہوریت میں ناقابل قبول ہے۔”
ہریش راؤ نے مطالبہ کیا کہ تمام گرفتار افراد کو فوری رہا کیا جائے اور کانگریس حکومت پر وعدہ خلافی کا الزام عائد کیا۔
“کانگریس نے انتخابی وعدے کے طور پر پہلے سال میں دو لاکھ سرکاری ملازمتوں کا اعلامیہ جاری کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اب اسے مزید ٹالنے کا کوئی جواز نہیں۔”
انہوں نے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ انہی نوجوانوں کو نظرانداز کر رہے ہیں جن کی حمایت سے اقتدار میں آئے تھے۔
طلبہ یونینز اور بیروزگار فورمز کی قیادت میں جمعہ کو ریاست بھر میں احتجاج کی کوشش کی گئی، لیکن پولیس نے قبل از وقت کئی افراد کو حراست میں لے لیا۔
ہریش راؤ نے احتجاج کو جائز قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر نوجوانوں کی آواز کو دبانے کی کوشش جاری رہی تو عوامی ناراضگی مزید شدت اختیار کرے گی۔
ప్రభుత్వ ఉద్యోగాల కోసం “హాలో నిరుద్యోగి.. ఛలో సెక్రటేరియట్” కు పిలుపు ఇచ్చిన విద్యార్థులు, నిరుద్యోగులు, విద్యార్థి సంఘాల నాయకులను ఎక్కడికక్కడ అరెస్టులు చేయడం అప్రజాస్వామీకం, ప్రభుత్వ నిరంకుశత్వానికి ఇది నిదర్శనం.
అరెస్టు చేసిన వారందరినీ తక్షణమే విడుదల చేయాలని, మొదటి ఏడాదిలోనే…
— Harish Rao Thanneeru (@BRSHarish) July 4, 2025