
حیدرآباد: تلنگانہ کے ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا ملو نے مرکز سے اپیل کی ہے کہ مجوزہ GSTاصلاحات کے دوران ریاستی آمدنی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاوضے کا نظام نہ ہوا تو فلاحی اور ترقیاتی پروگرام بری طرح متاثر ہوں گے۔
انہوں نے یہ بات جمعرات کو نئی دہلی میں منعقدہ جی ایس ٹی کونسل کی وزرائے گروپ میٹنگ میں کہی جس میں ٹیکس اسلاب میں اصلاحات پر غور کیا گیا۔ اس گروپ آف منسٹرز کا مقصد جی ایس ٹی اسٹرکچر کو آسان اور متوازن بنانا ہے۔
بھٹی وکرامارکا نے یاد دلایا کہ جی ایس ٹی نافذ کرتے وقت ریاستوں سے 14 فیصد سالانہ آمدنی میں اضافے کی ضمانت دی گئی تھی اور پانچ سال تک نقصانات کی بھرپائی بھی کی گئی۔ لیکن فی الحال آمدنی کا اضافہ صرف 8 سے 9 فیصد ہے جو وعدے سے کہیں کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ شرحوں کی درستی خوش آئند ہے مگر حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔ اگر آمدنی میں کمی آئی تو بنیادی فلاحی اسکیمیں اور انفراسٹرکچر سرمایہ کاری متاثر ہوگی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے تجویز دی کہ موجودہ سیس کو برقرار رکھ کر مکمل رقم ریاستوں کو منتقل کی جائے، اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو نشہ آور اور پرتعیش اشیا پر ٹیکس بڑھا کر اضافی فنڈ اکٹھا کیا جائے۔
انہوں نے محصولات کی تقسیم کے فارمولے پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ تلنگانہ، تمل ناڈو اور کرناٹک جیسی جنوبی ریاستیں قومی خزانے میں زیادہ حصہ ڈالتی ہیں لیکن بدلے میں کم وسائل ملتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی اصلاح میں اس عدم توازن کو دور کرنا ناگزیر ہے۔
Attended the GST Council’s GoM meeting in New Delhi chaired by Hon’ble Union Finance Minister Smt. @nsitharaman Ji.
Welcomed the proposal to exempt Life and Health Insurance from GST, which will enhance insurance penetration.
Also welcomed the removal of the 12% slab and… pic.twitter.com/IQxcdKkeBQ— Bhatti Vikramarka Mallu (@Bhatti_Mallu) August 20, 2025