
حیدرآباد: [en]Group-1 Mains[/en] امتحانات میں مبینہ بے قاعدگیوں پر دائر مقدمات کی سماعت کے دوران منگل کے روز درخواست گزاروں کے وکلاء نے ہائی کورٹ میں سنگین الزامات عائد کیے کہ امتحانات کے آغاز سے ہی بے ضابطگیاں کی گئیں اور تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سروس کمیشن (ٹی ایس پی ایس سی) نے ان کی پشت پناہی کی۔
وکلاء نے کہا کہ ہال ٹکٹوں کی تقسیم، امتحانی مراکز کا انتخاب، اور امیدواروں کی حاضری کے اعداد و شمار میں تفاوت سمیت پورا عمل شفافیت سے خالی تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مخصوص افراد کو فائدہ پہنچانے کے لیے پورا سسٹم تیار کیا گیا تھا۔ تین سطحی جانچ، جانچ کے لیے پروفیسرز کا انتخاب، اور جوابات کی ویلیوایشن جیسے معاملات کو منظم سازش کا حصہ قرار دیا گیا۔
جسٹس نامورا پُ راجیشور راؤ کی عدالت میں منگل کو ان مقدمات کی سماعت جاری رہی۔
سینئر وکیل سوریندر راؤ نے عدالت کو بتایا کہ ٹی ایس پی ایس سی نے 11 سے 25 جنوری کے درمیان ویلیوایشن کے لیے کالج ایجوکیشن کمشنر کو مکتوب روانہ کیا، لیکن متعلقہ پروفیسرز کو اس سے پہلے ہی معلومات پہنچ چکی تھیں۔ انہوں نے حیرت ظاہر کی کہ انگریزی کے پروفیسر کس طرح تلگو میں لکھے گئے جوابی پرچوں کی جانچ کر سکتے ہیں۔
سینئر وکیل رچنا ریڈی نے کہا کہ ابتدائی اور مین امتحان کے لیے علیحدہ ہال ٹکٹ جاری کرنا ٹی ایس پی ایس سی کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے، جسے انہوں نے کمیشن کے ریکارڈ پر ایک “دھبہ” قرار دیا۔
راؤ نے یہ بھی کہا کہ پہلے مرحلے کی جانچ کے بعد جوابی پرچے “بنڈل نمبر” کے ساتھ دوسرے جانچ کنندہ کو دیے گئے، لیکن تیسرے جانچ کنندہ کو نہیں، جس کا کوئی واضح جواز موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ویلیوایشن کے ہونے یا نہ ہونے کا کوئی ٹریک موجود نہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بنڈل اور سیریل نمبرز صرف مخصوص افراد کو معلوم تھے۔ عدالت میں دلائل بدھ کے روز بھی جاری رہیں گے۔