
حیدرآباد: محبوب نگر ضلع میں ایک کسان کی خودکشی کے بعد اس کے اہل خانہ نے منگل کے روز قومی شاہراہ 44 پر لاش کے ساتھ دھرنا Protestمنظم کرتے ہوئے حکومت سے معاوضہ کا مطالبہ کیا۔
اطلاعات کے مطابق جڈچرلہ منڈل کے ائیرلاپلی تانڈا کے کسان اسلاماتھ روی نائک نے پیر کے دن قرض کے بوجھ سے تنگ آکر زہر پی لیا تھا۔ منگل کے روز جب اس کی لاش کو گاؤں لے جایا جا رہا تھا تو رشتہ داروں اور دیہاتیوں نے مڈی ریڈی پلی کے قریب شاہراہ کو روک دیا۔ اس احتجاج میں بی آر ایس قائدین بھی شامل ہوگئے اور فوت شدہ کسان کے خاندان کو 50 لاکھ روپئے ایکس گریشیا دینے کا مطالبہ کیا۔
سابق وزیر اور بی آر ایس کے ضلع صدر لکشما ریڈی نے احتجاجی مقام پر پہنچ کر خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اگرچہ روی نائک کو فوری طور پر جڈچرلہ سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا تھا لیکن وہاں کوئی اسٹاف موجود نہیں تھا۔ بعد ازاں اسے محبوب نگر لے جایا گیا جہاں بھی ڈاکٹرس دستیاب نہیں تھے۔
ریڈی کے مطابق روی نائک کو بعد ازاں حیدرآباد کے این آئی ایم ایس منتقل کیا گیا لیکن مسلسل لاپرواہی کے سبب وہاں سے گاندھی اسپتال بھیج دیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ انہوں نے جڈچرلہ کے 100 بستروں والے اسپتال میں بروقت علاج نہ ہونے کو کسان کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
انہوں نے مقامی رکن اسمبلی انیردھ ریڈی پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ وہ علاقے کے کسانوں کے مسائل کو یکسر نظر انداز کر رہے ہیں۔