
حیدرآباد: تلنگانہ اسمبلی کے اسپیکر گڈم پرساد کمار نے کہا ہے کہ وہ حالیہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لینے کے بعد پارٹی تبدیل کرنے والے Defector MLAsکے خلاف نااہلی کی درخواستوں پر کارروائی کریں گے۔
سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے میں واضح طور پر کہا ہے کہ اسپیکر کو تین ماہ کے اندر ایسی درخواستوں پر فیصلہ کرنا ہوگا، تاکہ قانون ساز عمل کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
اسپیکر پرساد کمار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا: ہم نے پہلے ہی منحرف ارکان کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ اب قانونی ماہرین سے مشورہ لینے کے بعد آئندہ اقدامات کا فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں تفصیلات جلد منظر عام پر لائی جائیں گی۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ مطالبہ بھی مسترد کر دیا کہ نااہلی کے اختیارات عدلیہ کو منتقل کیے جائیں۔ عدالت نے کہا کہ اسپیکر کو متعین مدت میں فیصلہ کرنا لازمی ہے، بصورت دیگر جمہوری مینڈیٹ متاثر ہوتا ہے۔
عدالت نے تلنگانہ ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ کے سابق فیصلے کو بھی منسوخ کر دیا، اور پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ سیاسی انحراف سے متعلق واضح قانون سازی کرے۔
اسپیکر کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں خاصی چہ میگوئیاں جاری ہیں، کیونکہ اب سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ پارٹی بدلنے والے ارکان کے مستقبل پر کب اور کیا فیصلہ آتا ہے۔