
حیدرآباد: مرکزی وزیر اور بی جے پی لیڈر بنڈی سنجے نے الزام عائد کیا ہے کہ کانگریس پارٹی کا Kamareddy Declarationدراصل پسماندہ طبقات (بی سی) کے لیے نہیں بلکہ “ایک خفیہ مسلم ریزرویشن منصوبہ” ہے، جس کے ذریعہ اقلیتوں کے لیے کوٹہ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
جنتَر منتر دہلی میں بی سی ریزرویشن کے مطالبے پر کانگریس کے دھرنے کے دوران بنڈی سنجے نے سخت بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ احتجاج بی سی طبقات کی فلاح کے لیے نہیں بلکہ مسلمانوں کے لیے ریزرویشن حاصل کرنے کی کوشش ہے۔
“42 فیصد میں سے 10 فیصد مسلمانوں کو دیا جائے گا”
بنڈی سنجے نے الزام لگایا کہ کانگریس کا انتخابی وعدہ 42 فیصد بی سی ریزرویشن محض دکھاوا ہے، جبکہ اصل میں صرف 32 فیصد بی سی طبقات تک پہنچے گا، اور باقی 10 فیصد مسلمانوں کو دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی نریندر مودی حکومت پہلے ہی بی سی طبقات کے لیے 27 فیصد ریزرویشن لا چکی ہے، جبکہ کانگریس کی تجویز شدہ اسکیم محض 5 فیصد کا اضافہ ہے۔
کانگریس پر اقلیت نوازی اور ہندو مخالف سازش کا الزام
بنڈی سنجے نے کہا کہ کانگریس کی یہ پالیسی “ہندوؤں کو اقلیت میں بدلنے” کی سازش کا حصہ ہے، اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس 100 فیصد ریزرویشن مسلمانوں کے لیے دینا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنتَر منتر پر جو دھرنا دیا جا رہا ہے وہ بی سی طبقات کی حقیقی تائید کے بغیر ہے۔
“50 سالہ کانگریس اقتدار میں ایک بھی بی سی وزیر اعظم نہیں”
انہوں نے کانگریس سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ واقعی بی سی طبقات کو 42 فیصد ریزرویشن دینا چاہتی ہے تو وہ بل کو اس شرط پر پیش کرے۔ ساتھ ہی انہوں نے عوامی بحث کا چیلنج دیتے ہوئے کہا:
“50 سال کانگریس نے ملک پر حکومت کی، کیا ایک بھی بی سی وزیر اعظم بنایا؟ متحدہ آندھرا پردیش میں 48 سال حکومت کی، کیا کبھی بی سی کو وزیر اعلیٰ بنایا؟”
بنڈی سنجے نے کہا کہ بی جے پی وہ واحد جماعت ہے جس نے بی سی طبقے سے تعلق رکھنے والے فرد کو وزیر اعظم کے عہدے تک پہنچایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کانگریس نے اپنے دور اقتدار میں کتنے بی سی افراد کو کابینی یا نامزد عہدے دیے؟
“تلنگانہ میں کانگریس کا زوال یقینی ہے”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس بی سی ریزرویشن کے نام پر مرکز کو نشانہ بنا رہی ہے، لیکن عوام اب دھوکے میں نہیں آئیں گے۔ انہوں نے پیش گوئی کی کہ کانگریس کو تلنگانہ میں بھی اتر پردیش، بہار اور بنگال جیسا زوال دیکھنا پڑے گا۔