
حیدرآباد: وزیر سریدھر بابو نے آج کریم نگر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ Assembly Speakerکو بی آر ایس کے ٹکٹ پر منتخب ہو کر بعد میں کانگریس میں شامل ہونے والے 10 ارکان اسمبلی کی نااہلی کے فیصلے کا مکمل آئینی اختیار حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اسپیکر کو اس قسم کی پارٹی چھوڑنے کے معاملات پر تین ماہ میں فیصلہ کرنے کی ہدایت دی ہے اور اس معاملے میں حکومت کا کوئی کردار نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جسٹس چندر گھوش کمیشن نے کالیشورم پراجیکٹ میں بے ضابطگیوں پر اپنی حتمی رپورٹ پیش کر دی ہے۔ ایک مختصر کمیٹی نے اس رپورٹ کا تفصیلی مطالعہ کر کے اس کا خلاصہ تیار کیا، جس کے اہم نکات عوام کے سامنے رکھے جا چکے ہیں۔ حکومت جلد ہی کالیشورم رپورٹ اسمبلی میں پیش کرے گی اور بی آر ایس سمیت تمام جماعتوں کو اس پر اظہارِ خیال کا موقع دیا جائے گا۔ ارکان کی آراء اور نیشنل ڈیم سیفٹی اتھارٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
کالیشورم رپورٹ جلد اسمبلی میں پیش ہوگی
سریدھر بابو نے کہا کہ میڈی گڈہ بیراج جیسے واقعات کے اعادہ سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ فون ٹیپنگ کیس کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) آزادانہ طور پر کام کر رہی ہے اور کن افراد کو طلب کرنا ہے، اس کا فیصلہ وہی کرے گی۔ انہوں نے بی سی طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے کانگریس حکومت کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی انتخابات بی سی کے لیے 42 فیصد ریزرویشن کے ساتھ کرائے جائیں گے۔