
حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر آبپاشی کیپٹن این اُتم کمار ریڈی نے ریاست بھر میں محکمہ آبپاشی کی زمینوں پر غیر قانونی قبضوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے کروڑوں روپئے مالیت کی اراضی کی بازیابی کا حکم دیا ہے۔
ڈاکٹر بی آر امبیڈکر تلنگانہ سکریٹریٹ میں منعقدہ جائزہ اجلاس میں اُتم کمار ریڈی نے محکمہ آبپاشی، ریونیو، ہائیڈرا (HYDRAA) اور بازآبادکاری کے عہدیداروں کو فوری اور مشترکہ اقدامات کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اب کسی قسم کے Irrigation Land Encroachmentsکو برداشت نہیں کرے گی، اور تمام شناخت شدہ اراضی کو فوراً باڑ بندی کے ذریعے محفوظ بنایا جائے۔
قانونی پیچیدگیوں سے نمٹنے کیلئے وزیر نے اٹارنی جنرل سے محکمہ آبپاشی کیلئے ایک مستقل گورنمنٹ پلیڈر کے تقرر کی بھی درخواست کی۔ انہوں نے گنڈی پیٹ اور راجندر نگر کے قریب والامٹاری (WALAMTARI) اور ٹی جی ای آر ایل (TGERL) اراضی پر قابضین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کل 426.30 ایکڑ میں سے 131.31 ایکڑ پر قبضہ ہے، جن میں سے 81.26 ایکڑ پر مقدمات زیر التوا ہیں اور 50.13 ایکڑ اراضی پر براہ راست غیر قانونی قبضہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان معاملات میں 20 مقدمات ضلعی عدالتوں میں اور 2 مقدمات ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں، اور تمام محکموں کے درمیان قریبی ہم آہنگی سے ان اراضی کو بازیاب کرایا جائے گا۔
اُتم کمار ریڈی نے محکمہ کی تمام جائیدادوں—جیسے زمین، عمارتیں، اور رہائشی کوارٹرز—کی مکمل فہرست تیار کرنے کا حکم بھی دیا۔ انہوں نے غیر قانونی طور پر قابض افراد سے رہائشی کوارٹرز فوراً خالی کرانے کی ہدایت دیتے ہوئے اس پر تفصیلی رپورٹ طلب کی۔
انہوں نے نہروں اور پراجیکٹ ایریاز کے قریب زمین پر سولر پاور یونٹس کی تنصیب کا امکان بھی جانچنے کو کہا۔ کابینہ پہلے ہی تجویز کر چکی ہے کہ ان سولر یونٹس سے حاصل ہونے والی بجلی کو لفٹ ایریگیشن اسکیموں کیلئے استعمال کیا جائے۔
اس اجلاس میں پرنسپل سکریٹری پرشانت جیون پاٹل، ہائیڈرا کمشنر اے وی رنگناتھ، بازآبادکاری کمشنر شیواکمار نائڈو، انجینئر ان چیف افضل حسین، ای این سی ایڈمنسٹریشن رمیش بابو، والامٹاری ڈائریکٹر جنرل انیتا، اور ہائیڈرا ایس پی اشوک نے شرکت کی۔
اُتم کمار ریڈی نے زور دے کر کہا کہ ریاستی حکومت محکمہ آبپاشی کی ایک ایک انچ زمین کو واپس لے گی، اور مستقبل میں کسی قسم کے قبضے کو روکنے کیلئے قانونی و انتظامی ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔