
حیدرآباد: بھونگیر اسپیشل آپریشن ٹیم اور کیسرا پولیس نے ایک بڑے Property Fraudکو بے نقاب کرتے ہوئے 8 افراد کو گرفتار کر لیا۔ اس گینگ نے جعلی سرٹیفکیٹس اور دستاویزات کے ذریعے 5 کروڑ روپئے سے زائد مالیت کے پلاٹس پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ پولیس کے مطابق کم از کم 10 مزید ملزم مفرور ہیں۔
رچا کونڈہ پولیس کمشنر سدھیر بابو نے بتایا کہ یہ گینگ خاص طور پر ان کھلے پلاٹس کو نشانہ بناتا تھا جن کی باڑ بندی یا واضح حدود موجود نہیں تھیں، بالخصوص رمپلی گاؤں (کیسرا منڈل) میں۔
یہ لوگ جعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹس اور جانشینی کے سرٹیفکیٹس تیار کرتے تھے اور حقیقی مالکان کو مردہ قرار دے کر جعلی وارثوں کے نام پر پلاٹس رجسٹر کرواتے تھے۔ ایک کیس میں انہوں نے 200 گز کے پلاٹ کی منتقلی کے لیے جعلی سول کورٹ سمجھوتہ آرڈر تک تیار کیا۔ اسی طرح 300 گز کے ایک اور پلاٹ کے لیے انہوں نے جعلی پاسپورٹ بنایا جس میں اصل مالک کو امریکی شہری ظاہر کرتے ہوئے پاور آف اٹارنی گینگ کے ایک رکن کے نام کر دی گئی تھی۔
فراڈ کا انکشاف کیسے ہوا
جب حقیقی مالکان نے اپنی جائیداد پر غیر قانونی رجسٹریشن کا پتہ چلایا تو انہوں نے سب رجسٹرار آفس کو اطلاع دی۔ وہاں سے پولیس کو خبر دی گئی، جس کے بعد تحقیقات میں پتہ چلا کہ گینگ پہلے ہی دو فراڈ رجسٹریشن مکمل کر چکا تھا اور مزید پلاٹس بیچنے کے لیے متعدد جعلی دستاویزات تیار کر رکھی تھیں۔
گرفتاریاں اور برآمدگی
پولیس نے بیگوڈم اروند، سمپنگی سریش، ایگا ہری پرساد، سومناتھ، کوتلورو ناگیندر پرساد، محمد حسین، یانجلا شیکھرا اور ونجا کو گرفتار کیا۔ تفتیش کے دوران 21 قسم کے جعل سازی کے آلات بھی ضبط کیے گئے۔
جرائم پیشہ ریکارڈ
گینگ کا سرغنہ ناگیندر پرساد پہلے ہی چار مقدمات کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ سومناتھ اور ہری پرساد کے خلاف بھی کئی کیسز درج ہیں۔ پولیس نے تصدیق کی کہ ان کے خلاف پی ڈی ایکٹ کی کارروائی شروع کی جا رہی ہے۔
کمشنر کی وارننگ
کمشنر سدھیر بابو نے کہا کہ اس گینگ کی سرگرمیوں سے حقیقی مالکان کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اور عوام کو مشورہ دیا کہ زمین کی خریداری سے پہلے ریکارڈ کی اچھی طرح جانچ کر لیں تاکہ کسی بھی جائیداد فراڈ سے بچا جا سکے۔