
حیدرآباد: گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن GHMC نے گوگل کے ساتھ شراکت داری کرتے ہوئے شہری نظم و نسق میں مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ، اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے استعمال کا منصوبہ بنایا ہے۔
پیر کی شام سینئر بلدی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی حکام نے گوگل کلاؤڈ پلیٹ فارم کے ساتھ ایک ورچوئل اجلاس میں شرکت کی، جس میں ان جدید ٹیکنالوجیز کے عملی نفاذ پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ابتدائی مرحلے میں سرکاری ویب سائٹس اور عوامی پورٹلز پر جنریٹیو اے آئی سے چلنے والی سرچ بارز نصب کی جائیں گی تاکہ شہری تیزی سے درکار معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں۔ اس کے علاوہ، عوام اور سرکاری عملے کی مدد کے لیے جدید چیٹ بوٹس بھی متعارف کیے جا رہے ہیں، جبکہ شکایات کی درجہ بندی اور جواب دہی کے عمل کو خودکار بنانے کے لیے اے آئی ٹولز استعمال کیے جائیں گے۔
حکام نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ شہری خدمات کی محفوظ اور ناقابلِ جعل فراہمی کے لیے بلاک چین پر مبنی ڈیجیٹل اسناد پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، گوگل میپس کے ذریعہ بسوں کی براہِ راست نگرانی، ٹینڈر کی اے آئی بنیاد پر جانچ، اور فارموں کی خودکار تکمیل جیسے اقدامات بھی زیر غور ہیں۔
شہری نظم و نسق کے مزید پہلوؤں میں بھی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا، جن میں اسمارٹ پارکنگ نظام، ٹھوس کچرے کی موثر نگرانی، اور ٹریفک حادثات سے قبل خبردار کرنے والے ماڈلز شامل ہیں۔ جی ایچ ایم سی گوگل کلاؤڈ کی مدد سے عوامی شکایات کی مؤثر نگرانی کے لیے ایک جامع ڈیجیٹل پلیٹ فارم بھی قائم کرے گا۔
شہر بھر میں صحتِ عامہ کے تجزیے، مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں پر نظر، ایمرجنسی میڈیکل سروسز، اور جھیلوں میں آلودگی کی نگرانی جیسے حساس امور بھی اس پروجیکٹ میں شامل کیے گئے ہیں۔ آشا کارکنوں کے لیے ’مانیا‘ نامی اے آئی اسسٹنٹ بھی تعینات کیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ جدید اقدامات نہ صرف شہری سہولتوں کو بہتر بنائیں گے بلکہ بلدی حکام کے انتظامی بوجھ میں بھی کمی لائیں گے۔