حیدرآباد:۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے ترجمان سید نظام الدین نے پیر کو بی آر ایس پر آبی بحران کو سیاسی رنگ دینے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعت بارش کی کمی کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کررہی ہے۔ ان کے مطابق، حکومت کے اقدامات کی حمایت کے بجائے بی آر ایس سیاسی تنازع پیدا کررہی ہے۔
سید نظام الدین نے 26 اکتوبر کو گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ کم بارش، آبی ذخائر میں گرتی سطح اور زیر زمین پانی پر بڑھتا انحصار تشویش کا باعث ہیں۔ تاہم، ان کے مطابق، موجودہ صورتحال حکومتی فیصلوں کے بجائے موسمی حالات کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کو اس وقت تعاون کی ضرورت ہے۔ بی آر ایس کو حکومتی اقدامات پر سوال اٹھانے کا حق ہے۔ تاہم، اسے بحران کی وجوہات کے بارے میں عوام کو گمراہ نہیں کرنا چاہیے۔
بارش کی کمی اور آبی ذخائر پر بڑھتا دباؤ | Telangana Water Crisis
تلنگانہ میں جنوب مغربی مانسون کے دوران جون سے ستمبر تک 615.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ معمول کے مطابق اس عرصے میں 740.6 ملی میٹر بارش ہونی چاہیے تھی۔ اس طرح بارش میں تقریباً 17 فیصد کمی درج کی گئی۔
مزید برآں، کئی اضلاع میں بارش کی کمی زیادہ رہی۔ اکتوبر کے دوران بھی متعدد علاقوں میں غیر معمولی خشک حالات دیکھے گئے۔ نظام الدین کے مطابق، ان حالات نے آبی ذخائر، تالابوں اور زیر زمین پانی کے ذرائع پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پینے کے پانی، زراعت اور بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی ضروری ہے۔ اسی دوران انہوں نے ایل نینو کے اثرات سے متعلق مبالغہ آمیز دعوؤں سے بھی خبردار کیا۔ ان کے مطابق، ایل نینو ایک بار بار رونما ہونے والا موسمی مظہر ہے، جس کے اثرات مختلف ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بی آر ایس مربوط تیاریوں کی حمایت کرنے کے بجائے خوف اور الجھن پیدا کررہی ہے۔ ان کے مطابق، ریاست کو موسمی صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔
حکومت کی تیاری اور کسانوں کے لیے اقدامات | Telangana Water Crisis
سید نظام الدین نے کہا کہ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی خود مختلف اہم شعبوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ان میں پینے کے پانی کی دستیابی، زرعی ضروریات، بجلی کی طلب، دیہی روزگار اور شہری پانی کا انتظام شامل ہیں۔
حکومت نے صورتحال کی مسلسل نگرانی کے لیے کابینی ذیلی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر ملو بھٹی وکرامارکا اس کمیٹی کی سربراہی کررہے ہیں۔ مزید برآں، مختلف محکموں کے درمیان رابطہ مضبوط بنانے کے لیے ایک نوڈل افسر بھی مقرر کیا گیا ہے۔
نظام الدین کے مطابق، یہ انتظامات درست معلومات فراہم کرنے اور افواہوں کی روک تھام میں مدد دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے کو صرف آبپاشی کا مسئلہ نہیں سمجھ رہی۔ اس کے بجائے، وہ اسے ایک وسیع معاشی اور ماحولیاتی چیلنج کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
کانگریس حکومت نے سنکرانتی کے بعد 4 ماہ کے لیے خصوصی روزگار پروگرام کی تجویز پیش کی ہے۔ یہ پروگرام مئی کے اختتام تک جاری رکھنے کی تجویز ہے۔ نظام الدین نے کہا کہ پانی کی کمی سے متاثرہ علاقوں میں زرعی سرگرمیاں گھٹ سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں دیہی مزدوروں اور کمزور مالی حالت والے خاندانوں کی آمدنی متاثر ہوسکتی ہے۔
مجوزہ پروگرام کے تحت مرکزی اسکیموں کی دستیاب رقم استعمال کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ریاستی حکومت بھی اضافی مالی مدد فراہم کرے گی۔ اس طرح کم زرعی سرگرمیوں کے دوران دیہی خاندانوں کو روزگار فراہم کرنے کی کوشش ہوگی۔
اسی دوران عوامی نمائندوں کو اگلے 4 ماہ تک دیہات سے مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ وہ مقامی مسائل کی نشاندہی کریں گے اور متعلقہ حکام سے رابطہ قائم کریں گے۔ مزید برآں، وہ متاثرہ خاندانوں تک ضروری مدد پہنچانے میں بھی تعاون کریں گے۔
کسانوں کو فصلوں کے انتخاب میں احتیاط کا مشورہ | Telangana Water Crisis
نظام الدین نے کہا کہ حکومت نے کسانوں کو حالات کے مطابق فصلوں کا انتخاب کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ جہاں حالات اجازت دیں، وہاں بارش پر منحصر فصلیں اور سبزیاں اگانے کی تجویز دی گئی ہے۔ تاہم، جن علاقوں میں آبپاشی کا قابل اعتماد انتظام نہیں، وہاں زیادہ پانی استعمال کرنے والی فصلوں سے گریز کا مشورہ دیا گیا ہے۔
خاص طور پر کمزور آبی صورتحال والے علاقوں میں ربیع سیزن کے دوران دھان کی کاشت سے بچنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ نظام الدین کے مطابق، اس مشورے کا مقصد کسانوں کو ممکنہ نقصان سے بچانا ہے۔ ناکافی پانی کی وجہ سے فصلیں ناکام ہونے پر کسانوں کی سرمایہ کاری ضائع ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسانوں کو پہلے سے رہنمائی دینا بہتر ہے۔ اس طرح وہ پانی کی غیر یقینی دستیابی کے مطابق اپنی فصلوں کی منصوبہ بندی کرسکتے ہیں۔ ان کے مطابق، یہ اقدام خوف پھیلانے کے بجائے ذمہ دارانہ منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔
پینے کے پانی اور بجلی کے تحفظ پر زور | Telangana Water Crisis
سید نظام الدین نے کہا کہ پینے کے پانی کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ان کے مطابق، کئی بڑے آبی ذخائر میں پانی کی سطح گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ مزید برآں، کئی چھوٹے آبپاشی ذرائع پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
اسی دوران کسانوں کی جانب سے بورویل اور زرعی پمپ سیٹوں کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔ اس وجہ سے بجلی کی طلب بھی بڑھ گئی ہے۔ لہٰذا، نظام الدین نے پانی اور بجلی دونوں کے تحفظ پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ موسمی بحران سے نمٹنے کی ذمہ داری صرف حکومت پر نہیں ڈالی جاسکتی۔ عوامی تعاون بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ انہوں نے چیف منسٹر کی جانب سے تحفظ کے اقدامات میں عوامی شرکت کی اپیل کی حمایت کی۔
حیدرآباد میں یکم نومبر سے گرین واٹر ٹینکر اسکیم | Telangana Water Crisis
نظام الدین نے حیدرآباد میٹروپولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کے مجوزہ گرین واٹر ٹینکر پروگرام کا بھی ذکر کیا۔ یہ پروگرام یکم نومبر سے شروع ہونے والا ہے۔ پروگرام کے تحت سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس سے صاف کیے گئے گندے پانی کو غیر پینے کے مقاصد کے لیے پہنچایا جائے گا۔
اس پانی کو تعمیراتی کاموں اور صنعتی سرگرمیوں میں استعمال کیا جاسکے گا۔ اس کے علاوہ، پارکوں، سبزہ زاروں کی دیکھ بھال، سڑکوں کی صفائی اور گردوغبار پر قابو پانے کے لیے بھی اس کی فراہمی ہوگی۔
مجوزہ نظام میں آن لائن رجسٹریشن اور ٹینکر بکنگ کی سہولت شامل ہوگی۔ صارفین ڈیجیٹل ادائیگی کرسکیں گے اور پانی کی ترسیل کی تصدیق بھی حاصل کریں گے۔ مزید برآں، پانی بھرنے کے مراکز پر الیکٹرانک پوائنٹ آف سیل سہولت دستیاب ہوگی۔
نظام الدین کے مطابق، یہ پروگرام پینے کے پانی اور تازہ زیر زمین پانی پر انحصار کم کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں صاف شدہ پانی محفوظ طریقے سے استعمال ہوسکتا ہے، وہاں پینے کا پانی استعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس طرح حیدرآباد کے آبی وسائل پر دباؤ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
بی آر ایس سے متبادل منصوبہ پیش کرنے کا مطالبہ | Telangana Water Crisis
سید نظام الدین نے دعویٰ کیا کہ تلنگانہ حکومت نے ممکنہ آبی قلت کی تیاری کئی ماہ پہلے شروع کردی تھی۔ ان کے مطابق، حکومت نے ماہرین سے مشاورت کی اور ہنگامی منصوبے تیار کیے۔ اس کے علاوہ، زرعی ضروریات، پانی کی دستیابی اور بجلی کی طلب کا مسلسل جائزہ لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات پیشگی تیاری کا ثبوت ہیں، نہ کہ تاخیر سے کیے گئے فیصلے۔ تاہم، انہوں نے الزام لگایا کہ بی آر ایس اپنی سیاسی تنقید کے باعث حکومتی اقدامات کو نظرانداز کررہی ہے۔
نظام الدین نے کہا کہ اپوزیشن کو حکومتی عمل درآمد پر سوال اٹھانے کا حق حاصل ہے۔ لیکن اسے متبادل تجاویز بھی عوام کے سامنے پیش کرنی چاہئیں۔ انہوں نے بی آر ایس سے بہتر منصوبہ پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔
ان کے مطابق، بارش کی کمی کا الزام حکومت پر ڈالنا سیاسی موقع پرستی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پانی کا تحفظ، فصلوں کی منصوبہ بندی، دیہی روزگار اور پینے کے پانی کا انتظام زیادہ اہم ہیں۔
آخر میں نظام الدین نے عوام سے سرکاری معلومات اور زرعی مشوروں پر عمل کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کسانوں، صنعتوں اور عوامی نمائندوں سے بھی تعاون کی درخواست کی۔ ان کے مطابق، حکومت اور عوام مل کر کام کریں تو کسانوں، مزدوروں اور پینے کے پانی کی فراہمی کو ممکنہ مشکلات سے بچایا جاسکتا ہے۔
