تلنگانہ میں پانی اور بجلی کی قلت پر سبیتا کے سوالات | Telangana Water Crisis
حیدرآباد:۔ سابق وزیر اور رکن اسمبلی سبیتا اندرا ریڈی نے تلنگانہ میں پانی اور بجلی کی قلت پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ مزید برآں، انہوں نے مجوزہ موسیٰ پروجیکٹ پر بھاری اخراجات کی ضرورت پر بھی سوال کیا۔
سبیتا نے موجودہ حالات کا سابقہ بی آر ایس حکومت سے موازنہ کیا۔ ان کے مطابق، کے چندر شیکھر راؤ کی حکومت ضرورت پڑنے پر زیادہ قیمت پر بجلی خریدتی تھی۔ تاہم، اب ریونت ریڈی بجلی کی عدم دستیابی کی شکایت کررہے ہیں۔
بجلی کی خریداری پر سبیتا کے سوالات | Telangana Water Crisis
میڈیا سے بات کرتے ہوئے سبیتا نے کہا کہ ریونت ریڈی نے پانی اور بجلی کی قلت کا حوالہ دیا ہے۔ ان کے مطابق، چیف منسٹر نے یہ بھی کہا کہ خریدنے کے لیے بجلی دستیاب نہیں ہے۔ اس پر سبیتا نے سوال کیا کہ حکومت اس صورت حال سے کیوں نہیں نمٹ پارہی ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ سابقہ حکومت نے فی یونٹ 3.70 سے 3.90 روپے میں بجلی خریدی تھی۔ اس خریداری پر بدعنوانی کے الزامات لگے اور تحقیقات بھی ہوئیں۔ اس کے باوجود، سبیتا نے سوال کیا کہ اب 12 روپے فی یونٹ کی قیمت پر بھی بجلی کیوں دستیاب نہیں ہے۔
انہوں نے حکومت پر ناقص منصوبہ بندی اور عوامی ذمہ داریاں نظرانداز کرنے کا الزام لگایا۔ مزید برآں، ان کا کہنا تھا کہ ریونت ریڈی نے کنی پلی سے پانی اٹھانے کے مطالبات پر توجہ نہیں دی۔ انہوں نے حکومت سے پانی اور بجلی کے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا۔
گوداوری اور کرشنا کے پانی پر تنازع | Telangana Water Crisis
سبیتا نے الزام لگایا کہ تلنگانہ کا پانی بہہ کر نچلے علاقوں کی طرف چلا گیا۔ دوسری جانب، ان کے مطابق، پڑوسی ریاست نے اپنے آبی وسائل محفوظ رکھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گوداوری کا 750 ٹی ایم سی اور کرشنا کا 250 ٹی ایم سی پانی بہہ گیا۔
ان کے مطابق، تلنگانہ کو مجموعی طور پر 1,000 ٹی ایم سی پانی سے فائدہ اٹھانا چاہیے تھا۔ تاہم، انہوں نے ریاستی حکومت پر اس پانی کے تحفظ میں ناکامی کا الزام لگایا۔ اس لیے انہوں نے آبی وسائل کے بہتر انتظام کا مطالبہ کیا۔
موسیٰ پروجیکٹ کے اخراجات پر اعتراض | Telangana Water Crisis
سبیتا نے موسیٰ پروجیکٹ کے لیے پانی کی دستیابی پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے حکومت سے پوچھا کہ اس منصوبے کے لیے پانی کہاں سے آئے گا۔ اسی دوران، انہوں نے حمایت ساگر کے قریب مجوزہ کاموں کی ضرورت پر بھی وضاحت طلب کی۔
سبیتا نے کہا کہ کسانوں کے پاس زرعی اخراجات پورے کرنے کے لیے رقم نہیں ہے۔ اس کے باوجود، حکومت موسیٰ پروجیکٹ پر 1.40 لاکھ کروڑ روپے خرچ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اس بھاری رقم کو خرچ کرنے کی فوری ضرورت کیا ہے۔
انہوں نے حکومت سے منصوبے کے متوقع فوائد بھی واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔ مزید برآں، انہوں نے پوچھا کہ حمایت ساگر کے آبی ذخیرے کے لیے پانی کہاں سے حاصل کیا جائے گا۔ ان کے مطابق، حکومت کو اس معاملے پر واضح جواب دینا چاہیے۔
سبیتا کی تنقید میں پانی کی تقسیم، بجلی کی خریداری اور موسیٰ پروجیکٹ کے اخراجات شامل رہے۔ انہوں نے کسانوں کی مالی مشکلات کا حوالہ بھی دیا۔ آخر میں، انہوں نے حکومت کی ترجیحات اور بنیادی عوامی ضروریات پر توجہ دینے کی ضرورت پر سوال اٹھایا۔
