حیدرآباد:۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ بنڈی سنجے کمار نے تلنگانہ میں خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کی فہرست پر اعتراض کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ شدید بارش کی کمی کے باوجود بعض منڈلوں کو فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے انتخابی معیار کی سائنسی بنیاد پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے ریاستی حکومت پر علاقوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کرنے کا الزام لگایا۔
بنڈی سنجے کے مطابق، بعض منڈلوں میں بارش کی کمی 35 فیصد تک ریکارڈ کی گئی، لیکن انہیں خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کی فہرست میں جگہ نہیں ملی۔ انہوں نے خاص طور پر کریم نگر پارلیمانی حلقے کے ساتھ ناانصافی کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو مقامی حالات اور کسانوں کی مشکلات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
خشک سالی کی فہرست پر سوالات | Telangana Drought Zones
بی جے پی رہنما نے حضورآباد، ویملواڑہ، سرسلہ، مناکونڈور، چوپہ ڈنڈی اور حضورآباد اسمبلی حلقوں کے بعض متاثرہ علاقوں کو فہرست سے خارج کیے جانے پر سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق، ان علاقوں کے کسان شدید مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ کئی کھیت بنجر پڑے ہیں اور مقامی باشندوں کو پینے کے پانی کے حصول میں بھی دشواری ہورہی ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا حکومت نے راحتی اقدامات پر اخراجات سے بچنے کے لیے جان بوجھ کر کریم نگر کو نظرانداز کیا ہے۔ بنڈی سنجے نے کہا کہ کسانوں سے براہ راست بات چیت اور متاثرہ علاقوں کے دورے سے خشک سالی کی شدت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے حکومت سے وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ کیا، جس میں خشک سالی سے متاثرہ منڈلوں کی شناخت کے لیے استعمال کیے گئے معیار اور سرکاری اعداد و شمار کی تفصیلات موجود ہوں۔ ان کے مطابق، فہرست میں مقامی حالات اور قابل تصدیق شواہد کی عکاسی ہونی چاہیے۔
منڈل وار جائزہ اور کسانوں کے لیے معاوضے کا مطالبہ | Telangana Drought Zones
بنڈی سنجے نے کہا کہ ایک منڈل میں بارش کی صورت حال کی بنیاد پر پڑوسی منڈلوں کے حالات کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہر منڈل میں بارش کی کمی، زیر کاشت رقبے، فصلوں کے نقصان، زمین میں نمی اور زیر زمین پانی کی سطح کا الگ الگ جائزہ لیا جائے۔
انہوں نے حکومت سے ان تمام اشاریوں کی تفصیلی معلومات عام کرنے کی اپیل بھی کی۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ سروے سے خارج کیے گئے دیہات اور منڈلوں کے کسانوں کی درخواستوں اور شکایات کا فوری جائزہ لیا جائے۔ ان کے مطابق، جو منڈل خشک سالی کے معیار پر پورے اترتے ہیں، انہیں بلا تاخیر فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے۔
مرکزی وزیر نے زور دیا کہ حکومت فیصلے سیاسی مفادات کے بجائے زمینی حالات کی بنیاد پر کرے۔ انہوں نے خشک سالی سے متاثرہ کسانوں کو اہلیت کے مطابق مکمل معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے مشکلات کا سامنا کرنے والے غریب دیہی باشندوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔
بنڈی سنجے نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے کسانوں کی شکایات دور نہیں کیں تو وہ ان کے حق میں احتجاج میں شدت پیدا کریں گے۔ انہوں نے ایک بار پھر متاثرہ علاقوں کی شفاف نظرثانی اور منڈلوں کی درجہ بنڈی کے معیار کو عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔
