حیدرآباد:۔ تلنگانہ حکومت کے مشیر محمد علی شبیر نے کاماریڈی میں کرکٹ ٹریننگ ہب قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ یہ مرکز اندرا گاندھی اسٹیڈیم میں قائم کرنے کی تجویز ہے۔ اس میں پروفیشنل کوچنگ، 3 پریکٹس نیٹس اور معیاری کرکٹ پچ شامل ہوں گے۔
اس منصوبے کا مقصد کاماریڈی کے نوجوان کرکٹرز کی صلاحیتوں کو نکھارنا ہے۔ مزید برآں، انہیں ریاستی اور قومی سطح کے مقابلوں تک پہنچنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ حیدرآباد کرکٹ ایسوسی ایشن اسٹیڈیم میں کرکٹ کی سہولتیں بہتر بنانے میں تعاون کرے گی۔
محمد علی شبیر کا اسٹیڈیم کا دورہ | Kamareddy Cricket Hub
محمد علی شبیر نے 26 اکتوبر کو اندرا گاندھی اسٹیڈیم کا معائنہ کیا۔ وہ تلنگانہ حکومت میں ایس سی، ایس ٹی، او بی سی اور اقلیتوں کے مشیر ہیں۔ اس موقع پر حیدرآباد کرکٹ ایسوسی ایشن کے سکریٹری جیون ریڈی اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر امتیاز خان بھی موجود تھے۔
افسران نے اسٹیڈیم میں موجود سہولتوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کوچنگ، پچ کی تعمیر، پریکٹس نیٹس اور تربیتی سامان کی ضروریات پر تبادلہ خیال کیا۔ شبیرعلی نے کہا کہ کاماریڈی میں کرکٹ کا کافی ٹیلنٹ موجود ہے۔ تاہم، کئی نوجوانوں کو معیاری کوچنگ اور جدید سہولتیں میسر نہیں ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ مالی مشکلات باصلاحیت طلبہ کی تربیت میں رکاوٹ نہیں بننی چاہئیں۔ اس لیے مجوزہ مرکز مقامی نوجوانوں کو اپنے علاقے میں تربیت حاصل کرنے کا موقع دے گا۔ یوں انہیں بڑے شہروں کے تربیتی مراکز پر مکمل انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔

شبیرعلی کے مطابق، یہ منصوبہ دیہی اور شہری علاقوں کے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے مفید ہوگا۔ خاص طور پر ان کھلاڑیوں کو فائدہ پہنچے گا جنہیں مناسب تربیتی سہولتیں دستیاب نہیں ہیں۔ حیدرآباد کرکٹ ایسوسی ایشن مرحلہ وار اسٹیڈیم کی سہولتیں بہتر بنائے گی۔
ایک ہفتے میں کوچز کی تقرری اور 3 پریکٹس نیٹس | Kamareddy Cricket Hub
حیدرآباد کرکٹ ایسوسی ایشن ابتدائی مرحلے میں نجی کرکٹ کوچز مقرر کرے گی۔ اس کے ساتھ 3 پریکٹس نیٹس نصب کرنے کا منصوبہ بھی ہے۔ ایسوسی ایشن باقاعدہ تربیت کے لیے ضروری کرکٹ سامان بھی فراہم کرے گی۔
سکریٹری جیون ریڈی نے بتایا کہ شبیر علی کی تجاویز کے بعد کوچز کی تقرری کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ ان کے مطابق، ایک ہفتے کے اندر کوچز مقرر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس سے خواہش مند کھلاڑیوں کو منظم تربیت اور باقاعدہ پریکٹس کے مواقع ملیں گے۔
جیون ریڈی نے 3 پریکٹس نیٹس اور ضروری کرکٹ سامان کی فراہمی کی بھی تصدیق کی۔ ان سہولتوں کے ذریعے نوجوان کھلاڑی اہل کوچز کی نگرانی میں تربیت حاصل کرسکیں گے۔ مزید برآں، وہ اپنی صلاحیتوں کو مسلسل بہتر بناسکیں گے۔
معیاری کرکٹ پچ اور انڈر 19 مقابلوں کی تجویز | Kamareddy Cricket Hub
محمد علی شبیر نے کہا کہ اسٹیڈیم میں معیاری کرکٹ پچ تیار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ مجوزہ منصوبے میں کوچنگ پروگرام اور حیدرآباد کرکٹ ایسوسی ایشن کی نگرانی میں مقابلے بھی شامل ہیں۔
خصوصاً کاماریڈی میں انڈر 19 کرکٹ میچوں کے انعقاد کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔ جیون ریڈی نے بتایا کہ ایسوسی ایشن اپنے آئندہ اجلاس میں کرکٹ پچ کی تجویز پر غور کرے گی۔ اس کے علاوہ، اسٹیڈیم کو نگرانی میں لے کر انتظامی اور کرکٹ سرگرمیاں چلانے کے امکانات بھی دیکھے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ انڈر 19 مقابلوں کے انعقاد کے لیے ضروری بنیادی سہولتیں تیار کرنے کی کوشش ہوگی۔ ایسے مقابلوں سے مقامی کھلاڑیوں کو عملی تجربہ حاصل ہوگا۔ یوں انہیں اپنی صلاحیتیں دکھانے اور اعلیٰ سطح پر آگے بڑھنے کے مواقع ملیں گے۔
کھیلوں کے ذریعے نوجوانوں کی ترقی پر زور | Kamareddy Cricket Hub
محمد علی شبیر نے کہا کہ کھیل نوجوانوں میں نظم و ضبط اور عزم پیدا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، کھیل وقت کی پابندی اور ٹیم ورک کی صلاحیت بھی بڑھاتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو تعلیم کے ساتھ کھیلوں میں بھی نمایاں کارکردگی دکھانے کی ترغیب دی۔
ان کے مطابق، چھوٹے شہروں اور دیہات میں کئی باصلاحیت نوجوان موجود ہیں۔ تاہم، مناسب کوچنگ مراکز نہ ہونے سے ان کی ترقی متاثر ہوتی ہے۔ لہٰذا، انہوں نے سرکاری محکموں اور کھیلوں کی تنظیموں کے درمیان بہتر رابطے کی ضرورت پر زور دیا۔
محمد علی شبیر نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو ترجیح دے رہی ہے۔ حکومت نوجوان کھلاڑیوں کے لیے مواقع پیدا کرنے والے اقدامات کی حمایت جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق، اندرا گاندھی اسٹیڈیم کو صرف ایک عام کھیل کے میدان تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔
انہوں نے اس اسٹیڈیم کو ایک مستقل تربیتی مرکز کے طور پر ترقی دینے کی خواہش ظاہر کی۔ اس مرکز سے ایسے کرکٹرز تیار کرنے کا منصوبہ ہے جو کاماریڈی کی نمائندگی اعلیٰ سطح کے مقابلوں میں کرسکیں۔ اسی دوران حیدرآباد کرکٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے کہا کہ کوچنگ، پریکٹس اور مقابلوں سے نوجوانوں کو منظم تربیت اور وسیع تجربہ حاصل ہوگا۔
