خصوصی ٹرینوں سے انکار پر کانگریس کا احتجاج، رہنما حراست میں | Delhi Rally Protest
حیدرآباد:۔ دہلی میں 1 نومبر کو ہونے والی ریلی کے لیے خصوصی ٹرینیں فراہم نہ کرنے پر تلنگانہ کانگریس نے احتجاج کیا۔ ساؤتھ سنٹرل ریلوے نے حیدرآباد سے قومی دارالحکومت دہلی کے لیے خصوصی ٹرینیں چلانے کی پارٹی کی درخواست مسترد کردی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف ریل نیلائم میں مظاہرہ کرنے پر پولیس نے تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر مہیش کمار گوڑ، وزرا، ارکان اسمبلی اور پارٹی کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔
احتجاج کے دوران کانگریس رہنماؤں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف نعرے لگائے۔ انہوں نے ریلوے حکام کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے دہلی جانے والے حامیوں کے لیے خصوصی ٹرینوں کا مطالبہ کیا۔ مظاہرہ شدت اختیار کرنے کے ساتھ ہی ریل نیلائم کے اطراف کشیدگی پیدا ہوگئی۔
خصوصی ٹرینوں کے مطالبے پر احتجاج | Delhi Rally Protest
کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ خصوصی ٹرینیں فراہم نہ کیے جانے کے باوجود پارٹی کے کارکن بڑی تعداد میں دہلی پہنچیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرینوں کی عدم دستیابی انہیں ریلی میں شرکت سے نہیں روک سکتی۔ تاہم، ریلوے حکام کے فیصلے کے خلاف پارٹی کا احتجاج جاری رہا۔
کانگریس نے اعلان کیا ہے کہ 1 نومبر کو دہلی میں ہونے والی ریلی میں تقریباً 10 لاکھ افراد شرکت کرسکتے ہیں۔ یہ پروگرام انڈیا اتحاد نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کے مطالبے کے ساتھ منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دریں اثنا، ہریانہ کانگریس کے انچارج سنجے دت اور ریاستی کانگریس صدر راؤ نریندر سنگھ نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے انتخابی فہرستوں میں شفافیت اور ووٹ دینے کے حقوق کے تحفظ کو جمہوریت کے لیے ضروری قرار دیا۔ ان کے مطابق، کانگریس ان معاملات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
ووٹ بچاؤ مہم اور انتخابی شفافیت کا مطالبہ | Delhi Rally Protest
کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ پارٹی کی ’’ووٹ بچاؤ، دیش بچاؤ‘‘ مہم اپنے آخری مرحلے میں پہنچ چکی ہے۔ اس مہم کے ذریعے کانگریس الیکشن کمیشن کے کام کاج اور انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں پر سوال اٹھا رہی ہے۔
ریلی دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں منعقد ہوگی۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق، یہ اجتماع مہم کے اختتام کی علامت ہوگا اور جمہوریت و آئین کے تحفظ کے لیے ان کے عزم کا اظہار کرے گا۔ مزید برآں، کانگریس نے اس پروگرام کو مبینہ ’’ووٹ چوری‘‘ کے خلاف احتجاج قرار دیا ہے۔
پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ انتخابی عمل میں شفافیت اور ووٹ دینے کے حقوق کے تحفظ کے لیے عوام کو متحد کرنا چاہتی ہے۔ اسی دوران، حیدرآباد میں خصوصی ٹرینوں کے مطالبے پر احتجاج کے بعد پولیس نے مہیش کمار گوڑ، وزرا، ارکان اسمبلی اور کارکنوں کو سکندرآباد مارکیٹ پولیس اسٹیشن منتقل کردیا۔
