تلنگانہ کی چاول برآمدات بڑھانے کی تجویز | Telangana Rice Exports
حیدرآباد:۔ تلنگانہ سے فلپائن کو چاول کی برآمدات میں اضافے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ ریاستی وزیر این اُتم کمار ریڈی نے نئی دہلی میں فلپائن کے وفد سے اس معاملے پر تفصیلی بات چیت کی۔ مزید برآں، دونوں فریقوں نے زرعی تجارت بڑھانے پر اتفاق رائے ظاہر کیا۔
این اُتم کمار ریڈی نے فلپائن کے وزیر زراعت فرانسسکو پی ٹو لاریل جونیئر سے ملاقات کی۔ انہوں نے تلنگانہ کی چاول پیدا کرنے کی صلاحیت پر روشنی ڈالی۔ اس کے علاوہ، انہوں نے ریاست کی جدید رائس ملنگ سہولتوں کا بھی ذکر کیا۔
چاول کی فراہمی بڑھانے پر تبادلہ خیال | Telangana Rice Exports
این اُتم کمار ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ ملک کی بڑی دھان پیدا کرنے والی ریاستوں میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست بڑی مقدار میں معیاری چاول فراہم کر سکتی ہے۔ لہٰذا فلپائن کو تلنگانہ سے مزید خریداری پر غور کرنا چاہیے۔
فرانسسکو پی ٹو لاریل جونیئر نے اس تجویز کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ فلپائن اس امکان کا جائزہ لے گا۔ اسی دوران دونوں فریقوں نے سرکاری اداروں کے ذریعے آئندہ اقدامات پر بھی گفتگو کی۔
بات چیت میں چاول کی اقسام بھی زیر غور آئیں۔ مزید برآں، معیار، قیمت اور خریداری کے طریقۂ کار پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ اس کے علاوہ، لاجسٹکس اور سرٹیفکیشن کے امور پر بھی غور کیا گیا۔
دونوں وفود نے زرعی تجارت سے متعلق صحت اور نباتاتی ضوابط پر بھی بات کی۔ یوں حکام اور صنعت سے وابستہ نمائندوں کو مزید مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق ہوا۔
گوشت اور بیجوں میں بھی دلچسپی | Telangana Rice Exports
فلپائن نے تلنگانہ سے گوشت کی مصنوعات خریدنے میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔ مزید برآں، معیاری بیجوں کی فراہمی پر بھی بات ہوئی۔ این اُتم کمار ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ بیجوں کی پیداوار میں مضبوط صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے خوراک کی پروسیسنگ کے شعبے کا بھی ذکر کیا۔ اس کے علاوہ، متعلقہ حکام کے ساتھ مختلف مصنوعات کا جائزہ لینے پر اتفاق ہوا۔ نجی شعبے کے نمائندے بھی اس عمل میں شامل ہو سکیں گے۔
این اُتم کمار ریڈی نے کہا کہ برآمدات میں اضافہ دیہی معیشت کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ لہٰذا کسانوں، رائس ملرز، بیج کمپنیوں اور فوڈ پروسیسنگ صنعتوں کو نئے مواقع مل سکتے ہیں۔ یوں زرعی شعبے سے وابستہ دیگر اسٹیک ہولڈرز بھی بڑھتی ہوئی برآمدات سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
