کانگریس ایم ایل اے کے ریمارکس پر بی آر ایس کا احتجاج | Congress MLA Remarks
حیدرآباد:۔ کانگریس کے ایم ایل اے ویرلاپلی شنکر کے مبینہ ریمارکس نے تلنگانہ کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی۔ بی آر ایس نے ان بیانات پر سخت اعتراض کیا۔ مزید برآں، پارٹی نے قانونی کارروائی اور غیر مشروط عوامی معافی کا مطالبہ کیا۔
بی آر ایس کے مطابق ویرلاپلی شنکر نے سابق وزیر اعلیٰ اور بی آر ایس کے صدر کے چندرشیکھر راؤ کے خلاف قابل اعتراض الفاظ استعمال کیے۔ انہوں نے مبینہ طور پر کہا کہ وہ صرف 1000 ڈھول نہیں بجائیں گے۔ ضرورت پڑی تو “موت کا ڈھول” بھی بجائیں گے۔ اسی دوران انہوں نے مبینہ طور پر کہا کہ وہ کے چندرشیکھر راؤ کی موت چاہتے ہیں۔
بی آر ایس کا سخت ردعمل | Congress MLA Remarks
بی آر ایس کے رہنماؤں اور کارکنوں نے ان مبینہ ریمارکس کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک منتخب عوامی نمائندہ ایسے الفاظ کیسے استعمال کر سکتا ہے۔
مزید برآں، بی آر ایس نے کہا کہ ویرلاپلی شنکر نے کے چندرشیکھر راؤ کو تلنگانہ کے لیے “بددعا” قرار دیا۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ انہوں نے توہین آمیز زبان بھی استعمال کی۔
دوسری جانب، اپوزیشن رہنماؤں اور جمہوری کارکنوں نے بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندوں کو عوامی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ لہٰذا ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ بیانات کسی فرد کے لیے دھمکی کے طور پر لیے جا سکتے ہیں۔
قانونی کارروائی اور معافی کا مطالبہ | Congress MLA Remarks
بی آر ایس نے الزام لگایا کہ یہ مبینہ ریمارکس امن اور قانون و نظم کو متاثر کر سکتے ہیں۔ چنانچہ پارٹی نے متعلقہ حکام سے فوری قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
اس کے علاوہ، بی آر ایس نے ویرلاپلی شنکر سے غیر مشروط عوامی معافی مانگنے کا بھی مطالبہ کیا۔ یوں یہ معاملہ کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان تازہ سیاسی تنازع بن گیا۔ سیاسی کشیدگی بھی مزید بڑھ گئی۔
