تلنگانہ میں 14 ماہ کے چاول ذخیرے کا منصوبہ | Telangana Rice Buffer
حیدرآباد:۔ تلنگانہ حکومت ممکنہ غذائی قلت سے نمٹنے کے لیے 14 ماہ کا چاول ذخیرہ تیار کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس اقدام سے 3.42 کروڑ مستحقین کو غذائی تحفظ فراہم کرنے کا ہدف ہے۔ حکومت کو خدشہ ہے کہ ال نینو، کم بارش اور فصلوں کے ممکنہ نقصان سے غذائی رسد متاثر ہوسکتی ہے۔
وزیر شہری رسد اتم کمار ریڈی نے عوامی تقسیم کے نظام کو مضبوط بنانے کے جائزہ اجلاس میں حکام کو ضروری ہدایات دیں۔ حکومت کا مقصد چاول کی مسلسل فراہمی یقینی بنانا ہے۔ مزید برآں، وہ غریب خاندانوں کو غذائی قلت کے باعث اضافی مالی دباؤ سے بچانا چاہتی ہے۔
چاول کی طلب اور موجودہ ذخیرے کی صورت حال | Telangana Rice Buffer
ریاست کو فلاحی اسکیموں، عوامی تقسیم کے نظام (پی ڈی ایس) اور دوپہر کے کھانے کے پروگرام کے لیے ہر ماہ 2.38 لاکھ ٹن چاول درکار ہیں۔ اس طرح سالانہ ضرورت 28.56 لاکھ ٹن تک پہنچ جاتی ہے۔ لہٰذا، حکومت اتنا ذخیرہ محفوظ رکھنا چاہتی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں رسد متاثر نہ ہو۔
موجودہ تخمینوں کے مطابق، ریاست کے بفر گوداموں میں 9.64 لاکھ ٹن چاول موجود ہے۔ مزید برآں، ملوں اور دیگر ذرائع سے 18.39 لاکھ ٹن کسٹم ملڈ رائس ملنے کی توقع ہے۔ ان دونوں مقداروں کو ملا کر مجموعی دستیابی تقریباً 28.03 لاکھ ٹن ہوسکتی ہے۔
حکام کا اندازہ ہے کہ یہ متوقع ذخیرہ ستمبر 2027 تک ضروریات پوری کرسکتا ہے۔ تاہم، اس ہدف کے حصول کے لیے چاول کی خریداری اور گوداموں تک ترسیل بروقت کرنا ضروری ہوگا۔ اسی لیے حکومت فلاحی پروگراموں کے لیے مسلسل فراہمی برقرار رکھنے پر توجہ دے رہی ہے۔
ملوں کی نگرانی اور راشن میں مزید اشیا شامل کرنے کی تجویز | Telangana Rice Buffer
اتم کمار ریڈی نے حکام کو چاول کی ملوں کی کڑی نگرانی کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ مل مالکان مقررہ مدت میں باقی ماندہ کسٹم ملڈ رائس گوداموں تک پہنچائیں۔ یوں حکومت چاول کا مطلوبہ ذخیرہ برقرار رکھ سکتی ہے اور ممکنہ قلت سے بچ سکتی ہے۔
دوسری جانب، حکومت راشن کی دکانوں کے ذریعے مزید ضروری اشیا فراہم کرنے کی تجویز پر بھی غور کر رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت مستحقین کو چاول کے ساتھ گیہوں کا آٹا، سرخ مسور، پام آئل، چینی، املی اور مرچ پاؤڈر بھی دیا جاسکتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مشکل حالات میں خاندانوں کو اضافی راحت فراہم کرنا ہے۔
تاہم، ان اشیا کی تقسیم سے متعلق تجویز ابھی زیر غور ہے۔ حکومت نے ان کی فراہمی کے حتمی نفاذ کی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔ لہٰذا، اس بارے میں مزید وضاحت سرکاری فیصلے کے بعد سامنے آئے گی۔
ریاست کی یہ تیاری ال نینو کے باعث کم بارش، خشک سالی اور فصلوں کے نقصان کے خدشات سے جڑی ہے۔ اسی دوران، حکام کو گوداموں میں موجود ذخیرے اور نئی ترسیل پر مسلسل نظر رکھنی ہوگی۔ بالآخر، حکومت کی کامیابی کا انحصار بروقت خریداری، ملوں سے چاول کی وصولی اور عوام تک مسلسل رسد پہنچانے پر ہوگا۔
