عادل آباد رِمس میں حاملہ خاتون کی موت، تحقیقات کا مطالبہ | Adilabad RIMS Deaths
حیدرآباد:۔ عادل آباد کے رِمس اسپتال میں 7 ماہ کی حاملہ خاتون اور اس کے پیٹ میں موجود جڑواں بچوں کی موت کے بعد اہل خانہ نے جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ متوفیہ کی شناخت بی سنیتا کے طور پر ہوئی ہے۔ وہ اوٹنور کی رہائشی تھیں اور اطلاعات کے مطابق دوران علاج ان کا بلڈ پریشر بڑھ گیا تھا۔
علاج کے دوران حاملہ خاتون کی موت | Adilabad RIMS Deaths
دستیاب معلومات کے مطابق، سنیتا کو 21 اکتوبر کو عادل آباد رِمس میں داخل کرایا گیا تھا۔ اس وقت ان کے پیروں میں سوجن تھی اور وہ 7 ماہ کی حاملہ تھیں۔ تاہم، علاج کے دوران ان کا بلڈ پریشر بڑھ گیا اور زچگی سے پہلے ہی ان کی موت ہوگئی۔
سنیتا کے ساتھ ان کے پیٹ میں موجود دونوں بچوں کی بھی موت ہوگئی۔ اس واقعے نے خاندان کو شدید صدمے سے دوچار کردیا ہے۔ مزید برآں، رشتہ داروں نے اسپتال میں فراہم کیے گئے علاج اور ان کی صحت کی نگرانی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے ہیں۔
اہل خانہ نے ڈاکٹروں پر مبینہ طبی غفلت کا الزام لگایا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ سنیتا کی موت کے حالات کی مکمل جانچ کی جائے۔ اسی دوران، انہوں نے اسپتال میں داخلے کے بعد فراہم کی گئی طبی سہولتوں اور نگرانی کے عمل کی بھی تحقیقات پر زور دیا ہے۔
اہل خانہ کا جامع تحقیقات اور جواب دہی کا مطالبہ | Adilabad RIMS Deaths
اہل خانہ کا الزام ہے کہ طبی غفلت کے باعث سنیتا کی جان گئی۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ اسپتال کے عملے نے ان کی طبی حالت پر کس طرح نظر رکھی۔ تاہم، حکام نے اب تک طبی غفلت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔
دستیاب معلومات میں سنیتا کی موت کی قطعی وجہ ثابت کرنے والی طبی رپورٹ بھی شامل نہیں ہے۔ لہٰذا، تحقیقات کے ذریعے ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ علاج کے دوران کیا حالات پیش آئے۔ اس کے علاوہ، متعلقہ حکام کو طبی ریکارڈ اور فراہم کردہ علاج کا جائزہ لینا ہوگا۔
اہل خانہ نے متعلقہ حکام سے تفصیلی تحقیقات کرکے واقعے کی وجوہات سامنے لانے کی اپیل کی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ تفتیش میں اسپتال کے علاج اور نگرانی کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے۔ مزید برآں، انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔
فی الحال، سنیتا اور ان کے پیٹ میں موجود جڑواں بچوں کی موت کے حالات سرکاری جانچ کے منتظر ہیں۔ بالآخر، اہل خانہ کو امید ہے کہ شفاف تحقیقات سے حقائق سامنے آئیں گے۔ اس کے بعد ہی ممکنہ غفلت اور ذمہ داری کے بارے میں واضح نتیجہ اخذ کیا جاسکے گا۔
