بجلی بحران پر ہریش راؤ کی ریونت ریڈی پر تنقید | Telangana Power Shortage
حیدرآباد:۔ تلنگانہ میں بجلی بحران پر سابق وزیر ہریش راؤ نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ہریش راؤ بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے قانون ساز پارٹی کے نائب فلور لیڈر ہیں۔ انہوں نے حکومت پر اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری افسران پر ڈالنے کا الزام عائد کیا۔ مزید برآں، انہوں نے خبردار کیا کہ عوامی ناراضگی کے سیاسی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
ہریش راؤ نے سوشل میڈیا پوسٹ میں حکومت کی تیاریوں پر سوال اٹھائے۔ ان کے مطابق، بجلی کی کٹوتی اور قلت کے لیے حکومت پہلے سے تیار نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ کوئلے کا مناسب ذخیرہ برقرار نہیں رکھا گیا۔ اس کے علاوہ، بجلی کے شعبے کا بروقت جائزہ بھی نہیں لیا گیا۔
بجلی بحران اور حکومتی جواب دہی | Telangana Power Shortage
ہریش راؤ نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ اور وزراء اب افسران کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ ان کے مطابق، حکومت اپنی جواب دہی سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ بحران شروع ہونے کے بعد افسران کو معطل کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اس اقدام کو نقصان ہونے کے بعد علاج تلاش کرنے کے مترادف قرار دیا۔
ہریش راؤ نے ایل نینو کے اثرات سے متعلق پیشگی انتباہات کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق، محکمہ موسمیات اور سائنس دان گزشتہ 9 ماہ سے خبردار کر رہے تھے۔ تاہم، حکومت نے ان انتباہات کو نظر انداز کیا۔ ان کا الزام ہے کہ انتظامیہ نے ممکنہ حالات سے نمٹنے کے لیے مناسب تیاری نہیں کی۔
ممنوعہ اراضی فہرستوں سے موازنہ | Telangana Power Shortage
ہریش راؤ نے بجلی بحران کا موازنہ ممنوعہ اراضی کی فہرستوں کے معاملے سے کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے ان فہرستوں کی تیاری میں غلطیاں کیں۔ بعد ازاں، اس نے ان غلطیوں کی ذمہ داری افسران پر ڈالنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق، بجلی بحران میں بھی حکومت یہی طریقہ اپنا رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے ایل نینو کا موازنہ کووڈ-19 جیسی آفت سے کیا تھا۔ اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ہریش راؤ نے سوال اٹھایا کہ وزیر اعلیٰ اپنی انتظامیہ کی خامیوں کو کیوں نہیں دیکھتے۔ ان کے تبصرے حکومت کی بجلی بحران سے نمٹنے کی حکمت عملی پر وسیع تر تنقید کا حصہ تھے۔
عوام اور سرکاری ملازمین کی ناراضگی کا انتباہ | Telangana Power Shortage
ہریش راؤ نے افسران کے خلاف وزیر اعلیٰ کی دھمکیوں پر بھی ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے ریونت ریڈی کو خبردار کیا کہ ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کا سلسلہ جاری رہا تو عوام ناراض ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، سرکاری ملازمین بھی حکومت کے خلاف ہو سکتے ہیں۔
یوں، بی آر ایس رہنما کی تنقید کا مرکز بجلی کی قلت، کوئلے کے ذخائر اور ایل نینو سے متعلق انتباہات رہے۔ انہوں نے افسران کو معطل کرنے کی دھمکیوں پر بھی سوال اٹھائے۔ ہریش راؤ نے حکومت سے بحران کی ذمہ داری قبول کرنے کا مطالبہ کیا۔
