سنگارینی کی نجکاری نہیں ہوگی، سریدھر بابو کا اعلان | Singareni Privatisation
حیدرآباد:۔ تلنگانہ کے وزیر ڈی سریدھر بابو نے سنگارینی کی نجکاری کے الزامات کو مسترد کردیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت سرکاری کوئلہ کمپنی کو نجی اداروں کے حوالے نہیں کرے گی۔ مزید برآں، انہوں نے ملازمین کو کمپنی کے مفادات کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی۔
سریدھر بابو نے کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے دفتر میں میڈیا کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے سابق بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا الزام تھا کہ سابقہ حکومت نے کمپنی کے مفادات کو نقصان پہنچایا۔
سابق حکومت پر سنگارینی کو نقصان پہنچانے کا الزام | Singareni Privatisation
وزیر نے الزام لگایا کہ کے سی آر خاندان نے اپنے 10 سالہ دور حکومت میں سنگارینی کو ذاتی ادارے کی طرح چلایا۔ ان کے مطابق، سابق حکومت نے کمپنی پر بھاری بقایا جات چھوڑے۔ اس کے نتیجے میں سنگارینی کی مالی حالت کمزور ہوئی۔
سریدھر بابو نے بی آر ایس قیادت پر کمپنی کو نقصان پہنچانے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق دور میں کمپنی کو نقصان پہنچانے والے رہنما اب ملازمین کی فلاح و بہبود پر اعتراض کیسے کر سکتے ہیں۔ تاہم، بی آر ایس کی جانب سے ان الزامات پر کوئی مؤقف اس خبر میں شامل نہیں ہے۔
نجکاری کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا | Singareni Privatisation
سریدھر بابو نے سنگارینی کی نجکاری سے متعلق الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے عوام اور کمپنی کے ملازمین سے اپیل کی کہ وہ ایسی باتوں پر یقین نہ کریں۔ مزید برآں، انہوں نے بی آر ایس رہنماؤں پر بار بار تنقید کے ذریعے کمپنی کی ساکھ متاثر کرنے کا الزام لگایا۔
وزیر نے کہا کہ کانگریس حکومت ماضی میں بھی سنگارینی کے مفادات کا تحفظ کرتی رہی ہے۔ ان کے مطابق، موجودہ حکومت بھی اس عزم پر قائم ہے۔ انہوں نے دوبارہ واضح کیا کہ حکومت کے پاس کمپنی کی نجکاری کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
یادادری پاور پلانٹ پوری صلاحیت سے چلانے کا وعدہ | Singareni Privatisation
سریدھر بابو نے یادادری پاور پلانٹ کو پوری صلاحیت سے چلانے کا وعدہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بجلی کی پیداوار کے لیے پلانٹ کی مکمل صلاحیت استعمال کرے گی۔ اس کے علاوہ، انہوں نے بغیر ثبوت الزامات کے ذریعے حکومت کی ساکھ خراب کرنے کی کوششوں پر خبردار کیا۔
وزیر نے واضح کیا کہ حکومت ایسے الزامات پر خاموش نہیں رہے گی۔ یوں، ان کا بیان سنگارینی کے مستقبل، ملازمین کے مفادات اور نجکاری سے متعلق تنازع پر حکومت کے مؤقف کو نمایاں کرتا ہے۔
