نجی کالجوں کو بقایاجات کی فوری ادائیگی کا مطالبہ | Telangana Fee Arrears
حیدرآباد:۔ تلنگانہ میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کی فیڈریشن، ’فتحی‘ نے حکومت سے فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالرشپ کے برسوں سے زیر التوا بقایاجات فوری جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ ادائیگیوں میں مزید تاخیر سے نجی تعلیمی ادارے بند ہونے کی نوبت آسکتی ہے۔ اس نے مطالبہ کیا کہ کالجوں کو بقایاجات کی کم از کم 50 فیصد رقم فوری ادا کی جائے تاکہ وہ اپنے کام جاری رکھ سکیں۔
’فتحی‘ کے مطابق، فیس کی ادائیگی نہ ہونے سے کالج شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔ تنظیم کے چیئرمین این رمیش بابو، سکریٹری جنرل کے ایس روی کمار، خزانچی کے کرشنا راؤ اور آرگنائزنگ سکریٹری ڈاکٹر کے سنیل کمار نے چیف سکریٹری کو ایک یادداشت پیش کی۔ انہوں نے یہ یادداشت محکمہ مالیات، محکمہ اعلیٰ تعلیم، محکمہ سماجی بہبود اور محکمہ اقلیتی بہبود کے پرنسپل سکریٹریز کو بھی دی۔
کالجوں کو بقایاجات کی فوری ادائیگی کا مطالبہ | Telangana Fee Arrears
’فتحی‘ کے عہدیداروں نے مطالبہ کیا کہ تعلیم مکمل کرکے کالج چھوڑنے والے طلبہ کی فیس ری ایمبرسمنٹ کی رقم براہ راست متعلقہ کالجوں کے بینک کھاتوں میں جمع کرائی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رقم طلبہ کے ذاتی بینک کھاتوں میں منتقل نہیں ہونی چاہیے۔ اس اقدام سے کالجوں کو اپنے زیر التوا واجبات وصول کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تنظیم نے کہا کہ طلبہ کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد کالج انتظامیہ کے لیے ان سے بقایاجات وصول کرنا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔ مزید برآں، بعض طلبہ حکومت کی جانب سے رقم اپنے کھاتوں میں جمع ہونے کے باوجود کالجوں کو ادائیگی نہیں کرتے۔ ’فتحی‘ نے اقلیتی طلبہ سے بھی اپیل کی کہ وہ فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالرشپ کے واجبات ادا کریں، کیونکہ ان کے لیے اب تک کوئی فنڈ جاری نہیں کیا گیا ہے۔
مالی بحران سے تعلیمی ادارے متاثر | Telangana Fee Arrears
’فتحی‘ کے مطابق، نجی انجینئرنگ، فارمیسی اور ڈگری کالج بقایاجات نہ ملنے کے باعث شدید قرضوں میں ڈوب رہے ہیں۔ ان اداروں کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھاری شرح سود پر قرض لینا پڑ رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں کالجوں پر مالی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
اسی دوران، ملازمین کو بھی مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ انہیں تنخواہیں وقت پر نہیں ملتیں۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فوری کارروائی نہیں کی تو نجی تعلیمی اداروں کا نظام متاثر ہوسکتا ہے۔ لہٰذا، ’فتحی‘ نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لے اور زیر التوا فنڈز جاری کرے۔
