ممنوعہ ای سگریٹ نیٹ ورک پر چھاپے، 10 کروڑ روپے کے لین دین کا شبہ | E-Cigarette Racket
حیدرآباد:۔ تلنگانہ ایگل فورس نے ممنوعہ ای سگریٹ اور ویپ کی فروخت کے خلاف کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ حکام کو شکایات ملی تھیں کہ یہ غیر قانونی کاروبار تیزی سے پھیل رہا ہے۔ شکایات کے مطابق، طلبہ، نابالغوں اور نوجوانوں کو ان مصنوعات کی طرف راغب کیا جارہا ہے، جس سے ان میں نشے کا رجحان بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ایگل فورس نے گزشتہ 2 ماہ کے دوران ریاست بھر میں 7 دکانوں اور تجارتی مراکز پر چھاپے مارے ہیں۔ حال ہی میں حیدرآباد کے سائنک پوری علاقے میں واقع دی اسموک شاپ پر کشائی گوڑہ پولیس کے ساتھ کارروائی کی گئی۔ اس دوران کیرالا سے تعلق رکھنے والے 2 نوجوانوں، 20 سالہ عبیس اور 19 سالہ اوسینار پی ایچ کو گرفتار کیا گیا۔
کیرالا اور کرناٹک تک پھیلے نیٹ ورک کی جانچ | E-Cigarette Racket
گرفتار افراد سے پوچھ گچھ کے دوران انکشاف ہوا کہ غیر قانونی کاروبار کا تعلق کیرالا اور کرناٹک سے بھی ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں ان ریاستوں سے سامان فراہم کرنے والے افراد اور تنظیموں کے ذریعے 10 کروڑ روپے سے زیادہ کے لین دین کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ایگل فورس اب ان روابط کی مزید جانچ کررہی ہے۔
پولیس سائنک پوری کی ایک دکان کو ای سگریٹ فراہم کرنے والے ارشد کی تلاش میں ہے۔ ایگل فورس کے عہدیداروں کے مطابق، عبیس کی ملاقات بنگلورو میں کیرالا کے رہنے والے ارشد سے ہوئی تھی۔ پولیس کو شبہ ہے کہ ملزمان کاروباری رابطوں اور لین دین کے لیے ڈیجیٹل ذرائع استعمال کرتے تھے۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملزمان نے لین دین اور گاہکوں سے رابطے کے لیے الگ موبائل نمبر استعمال کیا۔ حکام اس بات کا پتا لگانے کی کوشش کررہے ہیں کہ سپلائرز، دکانداروں اور دیگر افراد کے درمیان رابطے کس طرح قائم کیے گئے تھے۔ ان روابط سے غیر قانونی کاروبار کے پورے ڈھانچے کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
فون پے سے ادائیگیاں، ریپیڈو کے ذریعے ترسیل | E-Cigarette Racket
تفتیش کاروں کے مطابق، اس نیٹ ورک میں فون پے کے ذریعے ادائیگیاں وصول کی جاتی تھیں۔ اس مقصد کے لیے کیرالا کے قصبہ کاسرگوڈ میں واقع کینرا بینک کے ایک کھاتے کا سراغ ملا ہے، جو سنار نامی شخص سے منسلک بتایا گیا ہے۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ گاہکوں تک سامان پہنچانے کے لیے ریپیڈو کی خدمات استعمال کی گئیں۔
ایگل فورس چین سے ممنوعہ ای سگریٹ کی غیر قانونی درآمد، ترسیل اور فروخت کے وسیع نیٹ ورک کی بھی جانچ کررہی ہے۔ حکام کے مطابق، کیرالا کے کاسرگوڈ اور کرناٹک کے جنوبی کنڑ علاقے سے منسلک 10 کروڑ روپے سے زائد کے مشتبہ لین دین کے شواہد ملے ہیں۔
حکام یہ بھی معلوم کررہے ہیں کہ آیا ریپیڈو، پورٹر اور اوبر جیسی ترسیلی اور ٹرانسپورٹ خدمات سامان منتقل کرنے کے لیے استعمال ہوئیں۔ اس کے ساتھ یہ جانچ بھی جاری ہے کہ سامان پہنچانے والے افراد کو اس کی اصل نوعیت اور غیر قانونی استعمال کا علم تھا یا نہیں۔
ایگل فورس کے عہدیداروں نے کہا کہ مالی لین دین اور سپلائرز سے دکانوں تک کے روابط کا تجزیہ کرنے کے بعد ہی ہر شخص کے کردار کا تعین ہوسکے گا۔ اب تک فورس نے حیدرآباد میں تقریباً 45 صارفین کی نشاندہی کی ہے۔ تاہم، پورے نیٹ ورک اور اس میں شامل افراد کے کردار سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔
