یوپی انتخابات میں ’مجلس‘کے کردار پر سوالات | Muslim Vote Politics
حیدرآباد:۔ کانگریس رہنما محمد ولی اللہ سمیر نے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اویسی، راہل گاندھی کی ملک گیر ووٹ چوری مہم سے مسلم ووٹروں کی توجہ ہٹا رہے ہیں۔ ان کے مطابق، انتخابی فہرستوں کی مبینہ بے ضابطگیوں کے بجائے مسلم سیاسی قیادت کا سوال اٹھایا جارہا ہے۔
سمیر حیدرآباد لوک سبھا حلقے کے کانگریسی انچارج اور سابق ڈی سی سی صدر ہیں۔ انہوں نے اتر پردیش میں اویسی کی حالیہ تقریروں پر سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ راہل گاندھی تمام برادریوں کے ووٹنگ حقوق کے تحفظ کی بات کررہے ہیں۔
اویسی نے حال ہی میں اعظم گڑھ اور رام پور میں عوامی اجتماعات سے خطاب کیا تھا۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپنی سیاسی قیادت مضبوط کرنے کی اپیل کی۔ مزید برآں، انہوں نے گاندھی نہرو یا یادو قیادت پر انحصار کم کرنے کی بات کہی۔
تاہم، سمیر کے مطابق، اس وقت سب سے اہم مسئلہ اہل شہریوں کے ووٹوں کا تحفظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ووٹر لسٹ سے کسی شہری کا نام حذف ہوجائے تو قیادت پر بحث بے معنی ہوجاتی ہے۔ ان کے مطابق، پہلی ترجیح ووٹ کے حق کا تحفظ ہونا چاہیے۔
ووٹ چوری مہم اور انتخابی فہرستوں کا تنازع | Muslim Vote Politics
ولی اللہ سمیر نے کہا کہ ووٹ چوری مہم انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ ان کے مطابق، یہ مسئلہ کسی ایک برادری تک محدود نہیں۔ بلکہ اس کا تعلق ہر برادری کے ووٹروں سے ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اویسی وسیع انتخابی مسئلے کو مسلم قیادت کی بحث تک محدود کررہے ہیں۔ سمیر نے ووٹر لسٹوں سے ناموں کے مبینہ غلط اخراج اور ممکنہ ردوبدل پر تشویش ظاہر کی۔ مزید برآں، انہوں نے ووٹ چوری اور ووٹ کٹوا سیاست میں فرق واضح کیا۔
سمیر کے مطابق، ووٹ چوری کا تعلق انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں سے ہے۔ دوسری جانب، ووٹ کٹوا سیاست سے مراد ان کے نزدیک پولنگ کے دوران مخالف ووٹوں کی تقسیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو دونوں مسائل سمجھنے چاہییں۔
ان کا کہنا تھا کہ راہل گاندھی انتخابی فہرستوں کے معاملے کو قومی جمہوری مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔ تاہم، سمیر نے الزام لگایا کہ اویسی کی الگ مسلم قیادت پر توجہ اس بحث سے توجہ ہٹارہی ہے۔ انہوں نے اس سیاسی حکمت عملی کے اثرات پر سوال اٹھایا۔
اتر پردیش انتخابات کے نتائج اور اے آئی ایم آئی ایم کا کردار | Muslim Vote Politics
ولی اللہ سمیر نے 2022 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج کا حوالہ بھی دیا۔ انہوں نے 5 حلقوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی کے فرق اور اے آئی ایم آئی ایم کے ووٹوں کا موازنہ کیا۔ ان کے مطابق، ان حلقوں میں مجلس کے ووٹ بی جے پی کی جیت کے فرق سے زیادہ تھے۔
نکور میں بی جے پی نے 155 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔ وہاں اے آئی ایم آئی ایم کو 3,591 ووٹ ملے۔ اسی طرح کرسی میں بی جے پی کی جیت کا فرق 520 ووٹ تھا، جبکہ مجلس کو 8,541 ووٹ حاصل ہوئے۔
بجنور میں بی جے پی نے 1,445 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ وہاں اے آئی ایم آئی ایم کو 2,290 ووٹ ملے۔ سلطان پور میں بی جے پی کی جیت کا فرق 1,388 ووٹ تھا، جبکہ مجلس کو 5,251 ووٹ حاصل ہوئے۔
ووٹ کٹوا سیاست کے سوال کو محض سیاسی پروپیگنڈا کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا | Muslim Vote Politics
اسی طرح اورائی میں بی جے پی نے 1,647 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ اس حلقے میں اے آئی ایم آئی ایم کو 2,190 ووٹ ملے۔ سمیر نے ان اعداد و شمار کی بنیاد پر قریبی مقابلوں میں مجلس کے انتخابی اثرات پر سوال اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ ان نتائج کی وجہ سے ووٹ کٹوا سیاست کے سوال کو محض سیاسی پروپیگنڈا کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ مجلس کے ووٹوں کو خودکار طور پر سماج وادی پارٹی یا دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ووٹ نہیں سمجھا جاسکتا۔
سمیر کے مطابق، مجلس کو انتخابات میں حصہ لینے کا جمہوری حق حاصل ہے۔ تاہم، انہوں نے اس کی انتخابی حکمت عملی کو جانچنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے یہ سوالات 2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے اٹھائے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اصل سوال یہ ہے کہ بی جے پی کے مخالف ووٹ تقسیم ہونے سے کس کو فائدہ پہنچتا ہے۔ مزید برآں، انہوں نے پوچھا کہ مجلس کی انتخابی مہم کا بنیادی مقصد بی جے پی کو چیلنج کرنا ہے یا اپنی سیاسی موجودگی بڑھانا۔ ان کے الزام کے مطابق، اس حکمت عملی سے کانگریس، سماج وادی پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتیں متاثر ہوسکتی ہیں۔
مسلم نمائندگی اور سیاسی اتحاد پر بحث | Muslim Vote Politics
سمیر نے کہا کہ منتخب اداروں اور سیاسی تنظیموں میں مسلمانوں کی نمائندگی بڑھنی چاہیے۔ انہوں نے مسلم ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی، وزراء، میئروں، کونسلروں اور پارٹی عہدیداروں کی تعداد بڑھانے پر زور دیا۔ تاہم، ان کے مطابق، نمائندگی کو وسیع سیاسی اتحاد سے الگ تھلگ ہونے کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مضبوط مسلم قیادت وسیع جمہوری سیاست کی تشکیل میں کردار ادا کرسکتی ہے۔ ان کے مطابق، نمائندگی اور سیاسی تنہائی دو مختلف چیزیں ہیں۔ لہٰذا، نمائندگی بڑھانے کے لیے سیاسی اتحاد کمزور کرنا ضروری نہیں۔
سمیر نے مجلس کی داخلی تنظیم پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ حیدرآباد میں صدر دفتر ہونے کے باوجود پارٹی کے پاس تلنگانہ کے لیے الگ ریاستی صدر نہیں ہے۔ انہوں نے اس صورت حال کا دیگر ریاستوں میں پارٹی کی تنظیمی ساخت سے موازنہ کیا۔
ان کے مطابق، دوسری جماعتوں پر انحصار ختم کرنے کا مشورہ دینے سے پہلے اپنی تنظیم میں بھی اختیارات کی تقسیم ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی خودمختاری کا آغاز پارٹی کے اندر سے ہونا چاہیے۔
مختلف ریاستوں میں انتخابی حکمت عملی پر سوالات | Muslim Vote Politics
سمیر نے الزام لگایا کہ مجلس حیدرآباد اور دوسری ریاستوں میں مسلم ووٹوں کے اتحاد سے متعلق مختلف مؤقف اختیار کرتی ہے۔ ان کے مطابق، حیدرآباد میں پارٹی مسلم ووٹ تقسیم ہونے سے بی جے پی کو فائدہ پہنچنے کا خدشہ ظاہر کرتی ہے۔ دوسری جانب، انہوں نے الزام لگایا کہ اتر پردیش، بہار اور دیگر ریاستوں میں مجلس ووٹروں کو روایتی اپوزیشن جماعتوں سے دور ہونے کی ترغیب دیتی ہے۔
انہوں نے خاص طور پر کانگریس، سماج وادی پارٹی اور راشٹریہ جنتا دل کا ذکر کیا۔ سمیر نے اویسی سے اتر پردیش کی سیاسی مہم کے بنیادی مقصد کی وضاحت کرنے کا مطالبہ کیا۔ مزید برآں، انہوں نے قریبی انتخابی مقابلوں میں اپوزیشن ووٹوں کی تقسیم کے اثرات پر تشویش ظاہر کی۔
سمیر کے مطابق، مسلمانوں کو بہتر سیاسی نمائندگی کے ساتھ اپنے ووٹ کے تحفظ کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے دوبارہ کہا کہ ووٹ چوری مہم کسی ایک مذہبی برادری کے بجائے تمام شہریوں کے انتخابی حقوق سے متعلق ہے۔ ان کے نزدیک، انتخابی فہرستوں کی مبینہ بے ضابطگیوں کو دور کرنا فوری ترجیح ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ووٹ کے تحفظ کے بغیر سیاسی نمائندگی بے معنی ہوجاتی ہے۔ اسی لیے، ان کے مطابق، مسلمانوں کی نمائندگی بڑھانے اور ووٹنگ حقوق محفوظ رکھنے کے لیے بیک وقت کوششیں ضروری ہیں۔ سمیر نے اویسی کی مسلم سیاسی قیادت سے متعلق مہم کے وقت پر بھی سوال اٹھایا۔
