سمندری طوفان ارنب آندھرا پردیش کے ساحل سے ٹکرا گیا، 150 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہواؤں کی رفتار، ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر منتقل | Cyclone Arnab Landfall
حیدرآباد:۔ سمندری طوفان ارنب 28 اکتوبر کو صبح 3:30 بجے آندھرا پردیش کے ساحل سے ٹکرا گیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، یہ انتہائی شدید سمندری طوفان تھا۔ ساحل سے ٹکرانے کا مقام باپٹلا اور وشاکھاپٹنم کے درمیان واقع ہے۔
طوفان کے دوران ہواؤں کی مسلسل رفتار 125 سے 135 کلومیٹر فی گھنٹہ رہی۔ بعض مقامات پر جھکڑوں کی رفتار 150 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی۔ حکام کے مطابق، اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ انہوں نے اس کا سبب بروقت انتباہات اور لوگوں کا انخلا بتایا۔
تاہم، املاک اور بنیادی ڈھانچے کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔ آندھرا پردیش محکمہ موسمیات کی سربراہ کے ناگ رتنا نے موجودہ صورتحال کی وضاحت کی۔ ان کے مطابق، ساحل سے ٹکرانے کا عمل مزید 1 سے 2 گھنٹے جاری رہ سکتا تھا۔ بعد ازاں، ہوا کی رفتار گھٹ کر 90 سے 120 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوسکتی تھی۔ مزید کمی کے بعد یہ رفتار 60 سے 70 کلومیٹر فی گھنٹہ رہنے کی توقع تھی۔
بنگلہ دیش نے اس طوفان کے لیے ارنب نام تجویز کیا تھا۔ بنگالی زبان میں اس نام کا تلفظ ’’اورنب‘‘ ہے، جس کے معنی سمندر ہیں۔ یہ نظام خلیج بنگال میں گہرے کم دباؤ کے علاقے سے بنا۔ اس کے بعد طوفان تیزی سے شدت اختیار کرکے ساحل تک پہنچا۔
ساحلی اضلاع میں شدید بارش اور سمندری پانی کی یلغار | Cyclone Arnab Landfall
سریکاکلم سے باپٹلا تک ساحلی اضلاع طوفان سے متاثر ہوئے۔ وشاکھاپٹنم، انکاپلی، کاکیناڈا، کوناسیما اور مغربی گوداوری میں خاص طور پر اثرات نمایاں رہے۔ بدھ کی صبح تک وشاکھاپٹنم میں تقریباً 200 سے 216 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔
کئی دوسرے مقامات پر بھی بارش 200 ملی میٹر سے تجاوز کرگئی۔ بعض علاقوں میں 130 سے 160 ملی میٹر یا اس سے زیادہ بارش ہوئی۔ نتیجتاً، نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا اور معمولات زندگی متاثر ہوئے۔
ساحل پر سمندری پانی کی سطح معمول کی مدوجزر کی سطح سے 1.5 سے 2.5 میٹر بلند ہوگئی۔ کاکیناڈا اور یانم کے قریب اس اضافے کا اثر زیادہ رہا۔ اس کے نتیجے میں سمندر کا پانی نشیبی علاقوں میں داخل ہوگیا۔ مزید برآں، حفاظتی دیواروں، ساحلی سڑکوں، عارضی ڈھانچوں اور پولٹری فارموں کو نقصان پہنچا۔
طوفانی ہواؤں نے درخت جڑوں سے اکھاڑ دیے۔ کئی سڑکیں بند ہوگئیں اور متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ اسی دوران، بجلی کے سینکڑوں کھمبے اور بڑے اشتہاری بورڈ گرگئے۔ اس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔
کوناسیما ضلع میں ہی بجلی کے تقریباً 6,000 کھمبے گرنے کی اطلاع ہے۔ طوفان نے موبائل ٹاورز کو بھی نقصان پہنچایا۔ چنانچہ بعض علاقوں میں مواصلاتی سگنل متاثر ہوئے اور رابطے میں مشکلات پیدا ہوئیں۔
ٹرینیں، پروازیں اور تعلیمی سرگرمیاں متاثر | Cyclone Arnab Landfall
طوفان کے باعث وجئے واڑہ اور وشاکھاپٹنم ہوائی اڈوں پر 21 پروازیں منسوخ ہوئیں۔ اسی دوران، 50 ٹرینوں کی منسوخی کی اطلاع بھی سامنے آئی۔ تاہم، بعض اطلاعات میں متاثرہ ٹرین خدمات کی تعداد 50 سے زیادہ بتائی گئی۔ کچھ رپورٹوں کے مطابق، یہ تعداد 100 سے بھی تجاوز کرسکتی ہے۔
شدید بارش کے باعث کئی سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا یا راستے بند ہوگئے۔ مزید برآں، متعدد اضلاع میں اسکول بند رکھے گئے۔ مسافروں اور مقامی شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
آندھرا پردیش کے علاوہ اڈیشہ کے جنوبی اضلاع میں بھی شدید بارش ہوئی۔ پوری اور گنجام میں معمولات زندگی متاثر ہوئے۔ اڈیشہ کے 16 اضلاع میں اسکول بند کردیے گئے۔ اس کے علاوہ، تقریباً 30,000 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ وہاں بھی انخلا کا عمل جاری رہا۔
محکمہ موسمیات نے کئی ریاستوں کے لیے بارش کا انتباہ جاری کیا۔ ان میں مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، چھتیس گڑھ، بہار، اتر پردیش، جھارکھنڈ اور تلنگانہ شامل ہیں۔ محکمہ نے طوفان سے متاثر ہونے والی 13 ریاستوں کا نقشہ بھی جاری کیا۔
اس فہرست میں تمل ناڈو، آندھرا پردیش، کیرالا، کرناٹک، تلنگانہ، اڈیشہ اور مغربی بنگال شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بہار، جھارکھنڈ، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور مہاراشٹر بھی فہرست میں شامل ہیں۔
آندھرا پردیش میں 84,000 سے زیادہ افراد محفوظ مقامات پر منتقل | Cyclone Arnab Landfall
آندھرا پردیش میں حکام نے 84,000 سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ ان افراد کو تقریباً 290 امدادی مراکز میں ٹھہرایا گیا۔ بعض اطلاعات کے مطابق، آندھرا پردیش اور اڈیشہ میں مجموعی طور پر 1 لاکھ سے 1.8 لاکھ افراد منتقل کیے گئے۔ دونوں ریاستوں نے پہلے ہی 4,000 طوفانی پناہ گاہیں قائم کی تھیں۔
قومی ڈیزاسٹر رسپانس فورس اور ریاستی ڈیزاسٹر رسپانس فورس کی ٹیمیں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ بحریہ، کوسٹ گارڈ اور بجلی بحالی کی ٹیمیں بھی متاثرہ علاقوں میں کام کررہی ہیں۔ مزید برآں، چیف منسٹر این چندرابابو نائیڈو نے تیاریوں کا بار بار جائزہ لیا۔ انہوں نے جانی نقصان سے بچاؤ کو اولین ترجیح قرار دیا۔
آندھرا پردیش اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق، حکام 24 گھنٹے سے طوفان کی نگرانی کررہے تھے۔ اس دوران، انہوں نے ساحلی آندھرا میں ہوا کی رفتار اور بارش کے اثرات کا جائزہ لیا۔ حکام نے بدلتی صورتحال کے مطابق امدادی انتظامات بھی جاری رکھے۔
حکام نے ماہی گیروں کو آج اور اگلے 2 دن سمندر میں نہ جانے کی ہدایت دی۔ اس کے علاوہ، ہزاروں کشتیاں واپس بندرگاہوں پر پہنچ گئیں۔ ریلوے، فضائی اور سڑکوں کی آمدورفت پر اثرات برقرار رہنے کا امکان ہے۔ بجلی، پانی اور مواصلاتی خدمات بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔
طوفان کمزور ہوکر اندرونی علاقوں کی جانب بڑھ رہا ہے۔ تاہم، بارش اور تیز ہواؤں کے اثرات ابھی باقی ہیں۔ اسی دوران، حکام سڑکوں اور بجلی کی فراہمی بحال کرنے میں مصروف ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں حالات معمول پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔
