دسہرہ پر موسیٰ ریور بحالی منصوبہ کا ہوگا آغاز | Musi River Rejuvenation
حیدرآباد:۔ تلنگانہ حکومت موسیٰ ریور بحالی منصوبہ کے پہلے مرحلے کا آغاز دسہرہ کے موقع پر کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ حکام نے منصوبے کی تمام اہم کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
مزید برآں، پہلے مرحلے کے لیے ₹7,345.12 کروڑ کی انتظامی منظوری پہلے ہی جاری ہو چکی ہے۔ لہٰذا منصوبے کے آغاز کی تیاریاں آخری مرحلے میں پہنچ گئی ہیں۔
پہلے مرحلے کے لیے ₹4,500 کروڑ ایشیائی ترقیاتی بینک کے قرض سے حاصل ہونے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ ₹2,845.12 کروڑ ایچ ایم ڈی اے اور ٹی جی آئی آئی سی فراہم کریں گے۔
حکام نے پہلے مرحلے کی تفصیلی منصوبہ رپورٹ ایشیائی ترقیاتی بینک کو جمع کرا دی ہے۔ اسی دوران قرض کی منظوری کا عمل بھی آخری مرحلے میں بتایا جا رہا ہے۔
پہلے مرحلے میں 2 حصوں پر بیک وقت کام | Musi River Rejuvenation
موسیٰ دریا کا آغاز اننت گیری پہاڑیوں سے ہونے والی 2 ندیوں، موسیٰ اور عیسی، سے ہوتا ہے۔ حمایت ساگر عیسی ندی پر قائم ہے۔
عثمان ساگر، جسے گنڈی پیٹ ذخیرہ بھی کہا جاتا ہے، موسیٰ ندی پر واقع ہے۔ بعد ازاں دونوں ندیاں لنگر حوض کے قریب باپو گھاٹ پر مل جاتی ہیں۔
وہاں سے دریا موسیٰ کے نام سے آگے بہتا ہے۔ پہلے مرحلے میں حمایت ساگر سے باپو گھاٹ تک 9.2 کلومیٹر حصے کی ترقی کی جائے گی۔
اس کے علاوہ عثمان ساگر سے باپو گھاٹ تک 11.8 کلومیٹر حصے پر بھی کام ہوگا۔ حکام دونوں حصوں پر ایک ساتھ کام کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
صفائی، بنیادی ڈھانچہ اور دوسرا مرحلہ | Musi River Rejuvenation
منصوبے کے تحت دریا سے جمع شدہ گاد اور کچرا ہٹایا جائے گا۔ مزید برآں، پانی ذخیرہ کرنے کی سہولیات بھی تعمیر کی جائیں گی۔
کشتی رانی سے متعلق سہولیات بھی منصوبے کا حصہ ہوں گی۔ اس کے علاوہ دونوں کناروں پر سڑکیں، لینڈ اسکیپنگ، سائیکل ٹریک اور فٹ اوور برج تعمیر کیے جائیں گے۔
منصوبے کا اہم مقصد گندے پانی کو دریا میں داخل ہونے سے روکنا ہے۔ لہٰذا دونوں کناروں پر بڑے ٹرنک لائن اور طوفانی پانی کی نکاسی کے نالے تعمیر کیے جائیں گے۔
حکام کے مطابق پہلے مرحلے کے آغاز کے بعد حیدرآباد گیٹ وے کی تعمیر پر بھی توجہ دی جائے گی۔ اسی دوران دوسرے مرحلے کی تیاریاں بھی تیز ہو گئی ہیں۔
دوسرا مرحلہ ناگول سے گوراولی تک پھیلے گا۔ مزید برآں، اس مرحلے کی تفصیلی منصوبہ رپورٹ بھی تیزی سے تیار کی جا رہی ہے۔
