حیدرآباد: تلنگانہ کے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے جمعرات کو ایک اہم سیاسی فیصلہ کیا۔ انہوں نے وزیر جنگلات کونڈا سریکھا کو فوری اثر کے ساتھ ریاستی کابینہ سے ہٹا دیا۔ اسی دوران حکومت نے تلنگانہ اسٹیٹ پلاننگ بورڈ کے نائب صدر جی چنا ریڈی کی تقرری بھی منسوخ کر دی۔ یہ فیصلے کانگریس میں حالیہ تنازعات اور تادیبی کارروائی کے بعد سامنے آئے ہیں۔
یہ بڑی سیاسی کارروائی متنازع بیانات کے پس منظر میں کی گئی۔ کونڈا سریکھا کی دختر کونڈا سشمیتا نے چیف منسٹر ریونت ریڈی پر ایک سنگین الزام عائد کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف منسٹر نے اپنے بھائی سے منسلک ایک شیل کمپنی کو کم قیمت پر قیمتی اراضی فراہم کی۔
دوسری جانب جی چنا ریڈی نے ونپرتی کے رکن اسمبلی ٹی میگھا ریڈی پر الزام عائد کیا تھا۔ ان کے مطابق ٹی میگھا ریڈی نے مالی ترغیبات کے ذریعے اسمبلی انتخابات کے لیے پارٹی ٹکٹ حاصل کیا۔ ان الزامات پر کانگریس کے اندر شدید ردعمل سامنے آیا۔ مزید برآں، اطلاعات کے مطابق کئی پارٹی ارکان اسمبلی نے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
نظم و ضبط کی کارروائی اور ہائی کمان کی منظوری | Konda Surekha Cabinet Removal
کونڈا سریکھا نے تنازع کے دوران اپنا موقف بھی واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنی دختر کے بیانات کے لیے انہیں ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ تاہم تنازع بڑھنے کے بعد معاملہ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے تادیبی نظام تک پہنچ گیا۔
اس کے بعد ٹی پی سی سی ڈسپلنری کمیٹی نے معاملے کا جائزہ لیا۔ کمیٹی نے 20 اگست کو اپنی رپورٹ تلنگانہ کانگریس کے صدر مہیش کمار گوڑ کو پیش کی۔ اطلاعات کے مطابق رپورٹ میں کونڈا سریکھا اور جی چنا ریڈی کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی سفارش کی گئی۔
بعد ازاں معاملہ کانگریس ہائی کمان کے سامنے پہنچا۔ مرکزی قیادت نے کونڈا سریکھا کو کابینہ سے ہٹانے کے فیصلے کی منظوری دی۔ چنانچہ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے اس فیصلے پر عمل درآمد کیا۔
مزید برآں، کابینہ کے فیصلے سے متعلق باضابطہ اطلاع گورنر شیو پرتاپ شکلا کے دفتر کو بھیج دی گئی۔ اس کارروائی نے پارٹی کے اندر نظم و ضبط کے معاملے کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
پلاننگ بورڈ میں تبدیلی اور نئی تقرریاں | Konda Surekha Cabinet Removal
اسی دوران ریاستی حکومت نے جی چنا ریڈی کے خلاف بھی کارروائی کی۔ حکومت نے تلنگانہ اسٹیٹ پلاننگ بورڈ کے نائب صدر کی حیثیت سے ان کی تقرری منسوخ کر دی۔ اس طرح ریاستی سطح کے 2 اہم عہدوں پر بڑی تبدیلی سامنے آئی۔
دوسری جانب ان فیصلوں نے تلنگانہ کانگریس کی داخلی سیاست کو بھی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ حالیہ الزامات نے پارٹی میں نظم و ضبط اور داخلی اختلافات پر بحث کو تیز کیا۔ اس کے علاوہ حکومت اور پارٹی قیادت کے درمیان تال میل کا معاملہ بھی نمایاں ہوا۔
اسی دوران چیف منسٹر کے دفتر نے 2 دیگر اہم تقرریوں کا اعلان کیا۔ نیریلا شاردا کو تلنگانہ اسٹیٹ ویمنس کمیشن کی نئی چیئرپرسن مقرر کیا گیا۔
مزید برآں، سابق رکن پارلیمنٹ جی سدھا رانی کو کاکتیہ اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی چیئرپرسن مقرر کیا گیا۔ اس طرح حکومت نے اہم اداروں میں نئی تقرریوں کا سلسلہ بھی آگے بڑھایا۔
بالآخر کونڈا سریکھا اور جی چنا ریڈی کے خلاف کارروائی نے تلنگانہ کانگریس میں تادیبی عمل کو ایک اہم موڑ دے دیا ہے۔ پارٹی کے کئی ارکان اسمبلی نے متنازع الزامات اور بیانات پر کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ چنانچہ قیادت کے حالیہ فیصلوں کو اسی سیاسی پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
