ورنگل آئی ٹی آئی کو 65 کروڑ روپے کی منظوری | Warangal ITI Revival
حیدرآباد:۔ ورنگل آئی ٹی آئی کی بحالی کے منصوبے کو اب رفتار مل گئی ہے۔ ریاستی حکومت نے نئی عمارت کے لیے 25 کروڑ روپے منظور کیے ہیں۔ مزید برآں، پی ایم سیٹو اسکیم کے تحت 40 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
مُلگ روڈ پر قائم گورنمنٹ انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کئی دہائیوں سے نوجوانوں کو تربیت دے رہا ہے۔ یہ ادارہ سابق ورنگل ضلع اور اطراف کے نوجوانوں کے لیے اہم مرکز رہا ہے۔ تاہم، مناسب دیکھ بھال نہ ہونے سے پرانی عمارت خستہ ہوگئی ہے۔
اب ادارے میں بڑے بنیادی ڈھانچے کی تبدیلی متوقع ہے۔ نئی عمارت اور جدید آلات فراہم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ، تکنیکی تربیت کے لیے سہولیات بھی بہتر کی جائیں گی۔
مُلگ روڈ کے احاطے میں 3 جدید ٹیکنالوجی مراکز پہلے ہی تعمیر ہوچکے ہیں۔ مزید برآں، نئی سرمایہ کاری سے اضافی انفراسٹرکچر بھی فراہم ہوگا۔ ادارے کے لیے جدید آلات بھی حاصل کیے جائیں گے۔
نئی عمارت اور جدید تربیتی سہولیات | Warangal ITI Revival
اس ادارے نے اپنی طویل تاریخ میں ہزاروں نوجوانوں کو تربیت دی ہے۔ موجودہ وقت میں تقریباً 620 طلبہ یہاں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ طلبہ کے لیے نئی سہولیات سے تکنیکی تعلیم بہتر ہونے کی توقع ہے۔
گورنمنٹ آئی ٹی آئی میں کئی اہم ٹریڈز موجود ہیں۔ ان میں الیکٹریشن، فٹر، ٹرنر اور مشینسٹ شامل ہیں۔ موٹر وہیکل مکینک اور ڈرافٹس مین سول بھی اہم ٹریڈز ہیں۔
اس کے علاوہ، ادارے میں ڈیزل مکینک، ویلڈر اور کوپا ٹریڈز بھی موجود ہیں۔ تاہم، پرانی عمارت میں طلبہ اور عملے کو مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ دیواریں، کھڑکیاں اور کلاس روم کے دروازے بھی متاثر ہوئے ہیں۔
ادارے کے حکام نے عمارت کی خراب حالت حکومت کے سامنے کئی مرتبہ رکھی تھی۔ تاہم، کئی برس تک مسئلہ حل نہیں ہوا۔ اب تازہ مالی منظوریوں سے تعمیراتی کام کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
مُلگ روڈ پر موجود موجودہ عمارت 1959 میں تعمیر ہوئی تھی۔ اس عمارت کو تقریباً 50 سال کی متوقع مدت کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اب اسے استعمال میں 67 سال مکمل ہوچکے ہیں۔
ریاستی حکومت نے حال ہی میں 25 کروڑ روپے منظور کیے ہیں۔ یہ رقم محکمہ اسکل ہیومن کیپیٹل اینڈ نالج ٹریننگ انیشی ایٹوز کے ذریعے منظور ہوئی۔ اس ادارے کو شکتی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
فنڈ سے جی پلس 1 عمارت تعمیر کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، پانی، صفائی، بجلی اور فرنیچر کی سہولیات بھی فراہم ہوں گی۔ آئی ٹی آئی کے انتظام سے متعلق دیگر بنیادی سہولیات بھی شامل ہیں۔
پی ایم سیٹو کے تحت 40 کروڑ روپے | Warangal ITI Revival
آئی ٹی آئی کے پرنسپل چندر نے ادارے کی حالت پر توجہ دلائی تھی۔ مقامی ایم ایل اے نائنی راجندر ریڈی نے یہ مسئلہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے سامنے اٹھایا۔ یوں نئی عمارت کے معاملے کو حکومتی توجہ ملی۔
دوسری جانب، ورنگل کی رکن پارلیمنٹ کڈیم کاویہ نے پی ایم سیٹو میں ادارے کے لیے موقع حاصل کیا۔ پی ایم سیٹو کا مکمل نام پرائم منسٹرز اسکلنگ اینڈ ایمپلائبیلٹی ٹرانسفارمیشن تھرو اپ گریڈڈ آئی ٹیز ہے۔
اس اسکیم کے تحت ورنگل آئی ٹی آئی کے لیے 40 کروڑ روپے منظور ہوئے ہیں۔ یہ رقم مشینری اور جدید آلات کی خریداری پر خرچ ہوگی۔ اس کے علاوہ، ٹریڈز کو اپ گریڈ اور ورکشاپس کو جدید بنایا جائے گا۔
اس اسکیم کے تحت ریاست میں 3 کلسٹر شامل ہیں۔ وقارآباد ، پنجہ گٹہ اور نلگنڈہ کو اسپوک آئی ٹی آئی منتخب کیا گیا ہے۔ حیدرآباد اولڈ سٹی کو ہب کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔
پی ایم سیٹو کے تحت 40 کروڑ روپے | Warangal ITI Revival
اولڈ سٹی ہب کے لیے 80 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ دیگر ہر اسپوک آئی ٹی آئی کو 40 کروڑ روپے ملے ہیں۔ یوں ورنگل آئی ٹی آئی کو بھی 40 کروڑ روپے کی منظوری ملی ہے۔
ورنگل آئی ٹی آئی یہ رقم مشینری اور آلات کو اپ گریڈ کرنے پر خرچ کرے گا۔ ٹریڈز کی جدید کاری بھی اسی فنڈ سے ہوگی۔ مزید برآں، ورکشاپس کی تزئین و آرائش بھی کی جائے گی۔
نئی آئی ٹی آئی عمارت کی تعمیر کا کام ٹینڈر مرحلے میں ہے۔ اسی دوران، پی ایم سیٹو فنڈ سے جدید آلات کی تنصیب متوقع ہے۔ تعمیر اور آلات دونوں منصوبے ادارے کی مجموعی سہولیات بدل سکتے ہیں۔
ریاستی اور مرکزی حکومت کی مجموعی منظوری 65 کروڑ روپے بنتی ہے۔ یہ رقم عمارت اور تکنیکی سہولیات کی بہتری پر خرچ ہوگی۔ طلبہ اور عملے نے طویل انتظار کے بعد منظوری کا خیرمقدم کیا ہے۔
نئی عمارت اور جدید آلات کی تکمیل کے بعد ادارے میں سہولیات بہتر ہوں گی۔ طلبہ کو جدید مشینری اور تزئین شدہ ورکشاپس تک رسائی ملے گی۔ یوں تکنیکی تربیت اور روزگار کی تیاری کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔
اب حکام اور طلبہ تعمیراتی کام مکمل ہونے کے منتظر ہیں۔ منصوبے کی کامیابی تعمیر، آلات کی تنصیب اور دیگر کاموں کی رفتار پر منحصر ہوگی۔
