کونڈا سریکھا تنازع شدت اختیار کر گیا | Warangal Congress
حیدرآباد:۔ تلنگانہ کی وزیر کونڈا سریکھا ایک نئے سیاسی تنازع کا سامنا کر رہی ہیں۔ ان کی بیٹی کونڈا سشمیتا پٹیل کے حالیہ بیان نے کانگریس کے اندر اختلافات مزید نمایاں کر دیے۔ اسی دوران پارٹی کی تادیبی کمیٹی نے سریکھا سے وضاحت طلب کر لی۔
کونڈا سریکھا اس وقت وزیر ماحولیات، جنگلات اور اوقاف ہیں۔ وہ ورنگل ایسٹ سے کانگریس کی رکن اسمبلی بھی ہیں۔ تاہم حالیہ تنازعات نے ان کی سیاسی پوزیشن پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
سشمیتا پٹیل نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی پر تنقید کی تھی۔ اس کے بعد کانگریس کی تادیبی کمیٹی نے معاملے کا نوٹس لیا۔ مزید برآں کمیٹی نے بار بار سامنے آنے والے سیاسی بیانات پر تشویش ظاہر کی۔
کونڈا سریکھا نے واضح کیا کہ وہ اپنی بالغ بیٹی کے بیانات کی ذمہ دار نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنے مؤقف سے پارٹی قیادت کو بھی آگاہ کیا۔ بعد ازاں وہ بنگلورو میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے سے بھی ملیں۔
اسی دوران اے ریونت ریڈی نے کہا کہ پارٹی کا تادیبی نظام پورے معاملے کا جائزہ لے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیصلہ پارٹی کے ضابطوں کے مطابق ہوگا۔
ورنگل میں پرانے اختلافات | Warangal Congress
یہ تنازع صرف ایک بیان تک محدود نہیں رہا۔ اس کے پیچھے ورنگل کی دیرینہ گروہی سیاست بھی موجود ہے۔ لہٰذا اس معاملے کو مقامی سیاسی تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
کونڈا خاندان کئی دہائیوں سے ورنگل کی سیاست میں سرگرم رہا ہے۔ کونڈا سریکھا متعدد مرتبہ اسمبلی انتخابات جیت چکی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے شوہر سابق ایم ایل سی کونڈا مرلی کے ساتھ مضبوط سیاسی نیٹ ورک قائم کیا۔
تاہم یہی اثر و رسوخ کئی مرتبہ دیگر کانگریس رہنماؤں سے اختلافات کا سبب بھی بنا۔ ان کے اہم اختلافات ورنگل ویسٹ کے رکن اسمبلی نائنی راجندر ریڈی سمیت دیگر مقامی رہنماؤں سے رہے۔
اختلافات پارٹی تنظیم پر بھی سامنے آئے۔ تنازع مندر ٹرسٹ بورڈ کی تقرریوں پر بھی ہوا۔ مزید برآں ترقیاتی منصوبوں اور سیاسی اثر و رسوخ پر بھی کشیدگی برقرار رہی۔
بھدرکالی مندر ٹرسٹ بورڈ کا معاملہ خاص طور پر نمایاں رہا۔ بطور وزیر اوقاف سریکھا نے تقرریوں پر اپنا اختیار برقرار رکھا۔ دوسری جانب مخالف رہنماؤں نے ان فیصلوں پر اعتراض کیا۔
سریکھا نے ناقدین پر اپنے اختیارات کمزور کرنے کی کوشش کا الزام لگایا۔ یوں اختلافات مزید نمایاں ہوتے گئے۔
تنازعات نے سیاسی دباؤ بڑھایا | Warangal Congress
2024 میں بھی کونڈا سریکھا شدید تنازع کا شکار ہوئی تھیں۔ انہوں نے بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ، سمانتا روتھ پربھو اور ناگا چیتنیا سے متعلق متنازع دعویٰ کیا تھا۔
انہوں نے کے ٹی راما راؤ کو اداکاروں کی طلاق سے جوڑا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے اپنا بیان واپس لیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے عوامی معذرت بھی کی۔
اس واقعے نے سیاسی اور قانونی بحث کو جنم دیا۔ مزید برآں کانگریس حکومت کو بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
بعد میں انہوں نے فائلوں کی منظوری کے بدلے رقم لینے سے متعلق بھی بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کمپنیوں کو کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی کے ذریعے تعاون کی ترغیب دیتی ہیں۔
بعد ازاں سریکھا نے وضاحت پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا بیان سابق بی آر ایس حکومت میں مبینہ بدعنوانی کے تناظر میں تھا۔
سشمیتا پٹیل کا سیاسی کردار | Warangal Congress
سشمیتا پٹیل کی سیاسی سرگرمیوں نے اس تنازع کو نئی سمت دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے پرکالہ اسمبلی حلقے سے ممکنہ امیدوار کے طور پر خود کو پیش کیا تھا۔
کانگریس رہنماؤں نے اس طرز عمل پر اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ امیدواروں کا فیصلہ صرف پارٹی تنظیم کرتی ہے۔ لہٰذا انفرادی اعلان مناسب نہیں۔
اسی وجہ سے سشمیتا کی سیاسی خواہشات بھی بحث کا حصہ بن گئیں۔ یوں معاملہ صرف کونڈا سریکھا تک محدود نہیں رہا۔
ریونت ریڈی کے لیے سیاسی امتحان | Warangal Congress
یہ تنازع وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کے لیے بھی ایک اہم امتحان بن گیا ہے۔ وزیر کے خاندان کی جانب سے تنقید پارٹی نظم و ضبط پر سوال اٹھا سکتی ہے۔
تاہم سخت کارروائی ورنگل میں گروہی اختلافات کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ کونڈا سریکھا ایک تجربہ کار رہنما ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا مضبوط علاقائی سیاسی نیٹ ورک بھی موجود ہے۔
ابھی تک انہیں کابینہ سے ہٹانے یا استعفے کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی۔ تادیبی کارروائی جاری ہے۔ اسی دوران معاملہ قومی قیادت تک بھی پہنچ چکا ہے۔
اگر مفاہمت ہو گئی تو فوری بحران ٹل سکتا ہے۔ تاہم ورنگل کے گروہی اختلافات برقرار رہنے کا امکان موجود ہے۔ دوسری جانب سخت فیصلہ کانگریس کی مقامی سیاسی صف بندی تبدیل کر سکتا ہے۔
آخرکار یہ تنازع صرف ایک بیان تک محدود نہیں رہا۔ یہ اب پارٹی نظم و ضبط، علاقائی اثر و رسوخ اور ورنگل کی سیاسی قیادت کی وسیع کشمکش کی علامت بن چکا ہے۔
