نوکری فراڈ میں 2 افراد گرفتار | Wanaparthy Job Fraud
حیدرآباد:۔ ونپرتی میں سرکاری اسکولوں میں ملازمت کا جھانسہ دینے پر پولیس نے 2 افراد کو گرفتار کیا۔ ملزمان نے مبینہ طور پر بے روزگار افراد سے رقم وصول کی تھی۔ انہوں نے سرکاری اسکولوں میں اٹینڈنٹ کی ملازمت دلانے کا وعدہ کیا تھا۔
گوپال پیٹ ایس آئی ششی دھر نے بتایا کہ ملزمان نے بے روزگار افراد کو نشانہ بنایا۔ پولیس نے وانگورو روی پرساد اور تھوگٹا ہنومان داس کو گرفتار کیا۔ روی پرساد کا تعلق پیڈامارور سے ہے۔ ہنومان داس کا تعلق مناجی پیٹ سے ہے۔
متاثرین سے رقم وصول کرنے کا الزام | Wanaparthy Job Fraud
پولیس کے مطابق ملزمان نے چینورو گاؤں کی بویا کرشنا وینی سے رقم لی۔ انہوں نے پولکے پہاڑ گاؤں کی بوگگو منجولا سے بھی رقم وصول کی۔ دونوں خواتین سے مبینہ طور پر 50 ہزار روپے فی کس لیے گئے۔
مزید برآں، ملزمان نے دونوں خواتین سے 1 لاکھ روپے فی کس لیے۔ انہوں نے گوپال پیٹ گرلز ہائی اسکول میں اٹینڈنٹ تقرری کا وعدہ کیا۔ اسی طرح پولکے پہاڑ ہائی اسکول میں تقرری کا بھی وعدہ کیا گیا۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے ودیانجلی لیٹر پیڈ استعمال کیا۔ یہ لیٹر پیڈ مرکزی محکمہ تعلیم سے متعلق بتایا گیا۔ ملزمان نے اسی ذریعے سے ایک ای میل بھی بھیجی۔ ای میل میں تقرری کے احکامات شامل تھے۔
متاثرین نے ان احکامات کو حقیقی سمجھا۔ بعد ازاں انہوں نے ان تقرریوں کی بنیاد پر ملازمت شروع کردی۔ تاہم، انہیں 5 ماہ تک تنخواہ نہیں ملی۔
تنخواہ نہ ملنے پر پولیس سے رجوع | Wanaparthy Job Fraud
تنخواہ نہ ملنے پر دونوں خواتین نے روی پرساد اور ہنومان داس سے وضاحت مانگی۔ تاہم، ملزمان نے مبینہ طور پر انہیں ٹالنے کی کوشش کی۔ انہوں نے تنخواہوں سے متعلق غیر متعلقہ جوابات دیے۔
اسی دوران متاثرین نے پولیس سے رابطہ کیا۔ انہوں نے دونوں افراد کے خلاف مبینہ دھوکہ دہی کی شکایت درج کرائی۔ چنانچہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے روی پرساد اور ہنومان داس کو گرفتار کیا۔
پولیس نے دونوں ملزمان سے الزامات کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔ ایس آئی ششی دھر کے مطابق ملزمان نے دوران تفتیش جرم کا اعتراف کیا۔ تاہم، پولیس نے انہیں قانونی کارروائی کے بعد عدالت میں پیش کیا۔
بعد ازاں پولیس نے دونوں ملزمان کو ونپرتی کی عدالت میں پیش کیا۔ انہیں سیکنڈ ایڈیشنل جوڈیشل فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کورٹ میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے دونوں کو ریمانڈ پر بھیج دیا، ایس آئی ششی دھر نے بتایا۔
